بھارت سکھوں کے قتل عام پر پردہ ڈالنے پر بضد، فلم ستلج آن لائن پلیٹ فارم پر ریلیز ہوتے ہی ہٹا دی گئی
بھارتی فوج نے 1984سے 1994کے دوران 30 ہزار سے زائد سکھوں کو قتل کیا تھا

نئی دلی:بھارت آج بھی سکھوں کے قتل عام پر پردہ ڈالنے پر بضد ہے۔سکھوں کے قتل عام کے حقیقی واقعات پر مبنی فلم ستلج آن لائن پلیٹ فارم پر ریلیز ہوتے ہی ہٹا دی گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 80اور 90کی دہائی میں 30ہزار سے زائد سکھوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیاتھا۔ دلجیت دوسانج کی فلم کو 4 برس سے سینما پر ریلیز ہونے کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ زی فائیو پر ریلیز ہونے کے دو دن بعد ہی مودی سرکار کے دبائو پر فلم کو ہٹا دیا گیا۔ بھارتی فوج نے 1984 سے 1994 کے دوران 30 ہزار سے زائد سکھوں کو قتل کردیا گیا تھا۔فلم کے مرکزی اداکار دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ اب اس فلم کو روکا نہیں جا سکتا اور خالڑا صاحب کی آواز کو کوئی نہیں دبا سکتا۔اس فلم کا اصل نام پنجاب 95 تھا۔ مختلف وجوہات کی بنا پر اس کی ریلیز طویل عرصے سے رکی ہوئی تھی۔ 7فروری 2025کو اس فلم کو بین الاقوامی سطح پر ریلیز کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کا ٹیزر بھی جاری کر دیا گیا تھا۔تاہم بعد میں اس کی ریلیز ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔ فلم میں دلجیت دوسانجھ، ارجن رامپال، سوویندر وِکی، جگجیت سندھو اور گیتیکا ودیا اوہلیان نے مختلف کردار ادا کیے ہیں





