مضامین

حریت جموں وِ کشمیر کا درخشندہ ستارہ، برہان مظفر وانی شہید کا دسواں یومِ شہادت

برہان وانی نے اپنے خون سے جو شمع جلائی، اس کی روشنی آج پورے جموں و کشمیر میں پھیل چکی ہے

نجیب الغفور خان (جموں و کشمیر لبریشن سیل)
[email protected]

مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدید تحریکِ آزادی کو ایک نئی جلا بخشنے والے عظیم ہیرو، برہان مظفر وانی شہید کا یہ قول تاریخ کے ماتھے پر جھومر کی طرح سجا ہے کہ: ”ہم نے بھارتی استبداد کے خلاف حق کی آواز بلند کی ہے۔ غاصب قوتیں ہماری اس پکار کو دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہیں، لیکن انہیں ہر محاذ پر شرمندگی اور شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔” برہان وانی وہ سرفروش مجاہد تھے جنہوں نے پہلی بار ڈیجیٹل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے جموں و کشمیر کے مظلوموں کی آواز کو عالمی ایوانوں تک پہنچایا اور غاصب بھارت کا سفاک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ انہوں نے جنت نظیر وادی کے ضلع پلوامہ کے تاریخی قصبے ترال میں ایک معزز اور تعلیم یافتہ گھرانے میں جنم لیا، جہاں ان کے والد مظفر احمد وانی مقامی ہائر سیکنڈری سکول میں بطور پرنسپل خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ برہان نے بچپن ہی سے اپنی آنکھوں کے سامنے قابض افواج کے انسانیت سوز مظالم دیکھے، جس نے ان کے حساس دل کو شدید تڑپا کر رکھ دیا۔ وہ وادی کے نوجوانوں کو بیدار کرنے اور تحریک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے دن رات غور و فکر کرنے لگے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سوشل میڈیا کو اپنا ہتھیار بنایا۔ انٹرنیٹ پر اپلوڈ ہونے والی ان کی پہلی ہی ویڈیو نے کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں کے دلوں میں حریت کا ایک نیا جذبہ پیدا کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں پرعزم نوجوان ان کے نقشِ قدم پر چل پڑے اور یوں مزاحمت کا ایک ایسا نیا باب شروع ہوا جہاں قلم اور انٹرنیٹ کو بھی آزادی کا ذریعہ بنایا گیا۔ انہوں نے مستقبل کے تقاضوں کو بھانپتے ہوئے سائبر سپیس کے استعمال کو ترجیح دی، یہی وجہ ہے کہ آج مقبوضہ وادی کی تاریخ میں وہ جرات اور استقامت کے سب سے بڑے استعارے کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ وہ ایک سچے حریت پسند تھے، جنہوں نے محض 20 برس کی عمر میں وادی کے سنگلاخ راستوں پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ ان سے قبل ان کے بڑے بھائی، خالد مظفر وانی کو بھی قابض فورسز نے بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔ برہان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بوکھلا کر دلی سرکار نے ان کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی اور قابض فوج چوبیس گھنٹے ان کی تلاش میں لگی رہتی تھی۔ اپنی شہادت والے دن، برہان وانی اپنے دو رفقاء کار کے ہمراہ ایک گاؤں کی مسجد میں نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد باہر نکلے ہی تھے کہ قابض فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ شدید شیلنگ اور بارود کی بو کے درمیان ایک نام نہاد جابرانہ مقابلے میں 8 جولائی 2016ء کو برہان وانی نے اپنے ساتھیوں، سرتاج احمد شیخ اور پرویز احمد سمیت جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت کے فوراً بعد پوری وادی میں سخت ترین کرفیو نافذ کر دیا گیا، مگر آزادی کے پروانوں کے سیلاب کو نہ روکا جا سکا۔ قابض انتظامیہ کی سنگینوں کے باوجود لاکھوں کا مجمع جنازے کے لیے امڈ آیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ شہید برہان کی نمازِ جنازہ ایک عیدگاہ میں بار بار ادا کی جاتی رہی اور جیسے ہی ایک صف ختم ہوتی، دوسری جگہ لینے کے لیے تیار کھڑی ہوتی۔ ایک ہی مقام پر اتنی مرتبہ جنازہ پڑھایا جانا تاریخ کا ایک انوکھا ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے طول و عرض میں ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی پڑھی گئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق چھ لاکھ سے زائد عشاق اس آخری سفر کے گواہ بنے، جو راتوں رات دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے اپنے محبوب قائد کا آخری دیدار کرنے پہنچے تھے اور وادی آزادی کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ برہان وانی کشمیر کا وہ سچا سپوت تھا، جس نے مادرِ وطن کی آزادی پر اپنا سب کچھ قربان کر کے ثابت کیا کہ حریت پسندی کشمیریوں کے خون میں شامل ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی فضاؤں میں حریت کی نئی روح پھونکنے والے اس عظیم ہیرو کا آج دسواں یومِ شہادت ہے۔ حریت پسند قیادت اور عوام کی طرف سے خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے نکالی جانے والی ریلیوں کو روکنے کے لیے غاصب انتظامیہ نے پوری وادی کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر رکھا ہے، جہاں سنگینیں تانے فوجی پہرہ دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، وادی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا مکروہ کھیل اب بھی جاری ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران مزید 18 بے گناہ کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کی ایک حالیہرپورٹ کے مطابق، پرامن شہریوں پر بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسز کے وحشیانہ تشدد سے کم از کم 44 افراد شدید زخمی ہوئے۔ اسی عرصے کے دوران قابض فوج، سی آر پی ایف (CRPF)، اسپیشل آپریشنز گروپ اور دلی کے کٹھ پتلی تحقیقاتی اداروں (سی آئی کے, این آئی اے اور ایس آئی اے) نے محاصرے اور تلاشی کی 908 نام نہاد کارروائیوں کے دوران 1131 سے زائد بے گناہ شہریوں کو پابندِ سلاسل کیا، جن میں معصوم طلباء، سیاسی کارکنان اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ان اسیران کے خلاف یو اے پی اے (UAPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین کے تحت جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے۔
نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جابرانہ انتظامیہ نے اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے کشمیریوں کے مکانات، دکانیں، اراضی اور گاڑیوں سمیت 185 سے زائد املاک کو زبردستی ضبط کر لیا ہے۔ یہ غیر قانونی اقدامات کشمیری قوم کو معاشی طور پر مفلوج کرنے اور ان کے سیاسی نظریات کو کچلنے کی مودی سرکار کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں۔ قابض افواج معصوم بچوں کو بھی معاف نہیں کر رہیں، جہاں چھرے والی بندوقوں (پیلٹ گنز) کے بے دریغ استعمال سے سینکڑوں بچوں کو ہمیشہ کے لیے بینائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ برہان وانی نے بھی اسی بارود اور ظلم کے سائے میں پرورش پائی تھی۔ انہوں نے بچپن ہی سے دیکھا کہ کس طرح کشمیر کی ماؤں بہنوں کی عفت مآب چادر کو تار تار کیا گیا، کس طرح نوجوانوں کے لاشے گرائے گئے اور کس طرح ننھے بچوں کی آنکھوں کے نور کو چھینا گیا۔ اسی گھمبیر صورتحال کو بھانپتے ہوئے انہوں نے انٹرنیٹ کو اپنا مورچہ بنایا اور نوجوانوں کی فکری تربیت کی۔ جو شمع برہان وانی نے جلائی تھی، وہ آج ہر کشمیری کے دل کی دھڑکن بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں بھارت کا مکروہ چہرہ عیاں ہو رہا ہے اور اسے عالمی سطح پر رسوائی کا سامنا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ برہان مظفر وانی نے انتہائی مختصر مدت میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کو وہ بیداری بخشی جو آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے۔ وہ غاصب افواج کے مظالم کا پردہ چاک کر کے دنیا کے سامنے لائے اور کٹھ پتلی فوج کو ان کی ماند میں للکارا۔ دلی سرکار نے اس نوجوان کو جسمانی طور پر تو ہم سے جدا کر دیا، لیکن برہان کا فکر و فلسفہ آج کشمیر کے بچے بچے کے خون میں دوڑ رہا ہے۔ ان کی لازوال قربانی کے بعد کشمیریوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غاصب قوتیں یہ وہم دل سے نکال دیں کہ انہوں نے ایک برہان کو شہید کر کے تحریک ختم کر دی؛ اس خون نے لاکھوں نئے برہان پیدا کر دیے ہیں اور آج ہر کشمیری نوجوان آزادی کا پرچم تھامے قابض فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکا ہے۔ برہان کی سوچ آج بھی دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اگرجموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اسی طرح جاری رہی، اور معصوموں کو اندھا کیا جاتا رہا، تو خطے سمیت عالمی امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ برہان وانی اور دیگر شہداء کا لہو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری بھی انسان ہیں اور وہ تمام بنیادی، مروجہ اور انسانی حقوق کے اتنے ہی حقدار ہیں جتنا دنیا کا کوئی بھی دوسرا آزاد شہری۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اب اپنی مجرمانہ خاموشی توڑنا ہوگی، کیونکہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت حقِ خودارادیت کشمیریوں کا ایک مسلمہ اور ناقابلِ تردید حق ہے۔ اب یہ عالمی برادری کی اولین اخلاقی اور قانونی ذمہ داری بن چکی ہے کہ وہ مصلحتوں سے بالاتر ہو کر جموں و کشمیرکے عوام سے کیا گیا اپنا تاریخی وعدہ پورا کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button