بھارتی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں 125ویں نمبر پر آگیا، 11 برس میں 49 درجے تنزلی
کانگریس کا مودی حکومت پر بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام

نئی دلی:بھارتی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ عالمی پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق بھارت 2026کی درجہ بندی میں 125ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے، جبکہ 2014 میں اس کی پوزیشن 76ویں تھی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ 11 برس کے دوران بھارتی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں 49 درجے تنزلی ریکارڈ کی گئی ہے۔تازہ ترین درجہ بندی میں بھارت کو فلپائن، مراکش، ازبکستان اور چین سمیت ممالک سے پیچھے رکھا گیا ہے لیکن آذربائیجان اور کرغزستان سے آگے ہے۔ ایک اور عالمی درجہ بندی ورلڈ اکنامک فورم نے بھی جون 2026میں بھارتی پاسپورٹ کو80ویں پوزیشن پر رکھا ہے جو کہ2013میں 74ویں نمبر پر تھا۔رپورٹ کے مطابق بھارت عالمی سفری آزادی کے اشاریے میں 100بہترین ممالک میں بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں ناکام رہاہے۔ بھارتی شہریوں کو صرف 26 ممالک تک ویزا فری رسائی حاصل ہے، جبکہ سنگاپور 192ویزا فری مقامات کے ساتھ فہرست میں پہلے نمبر پر موجود ہے۔ عالمی درجہ بندی میں بھارتی پاسپورٹ نمیبیا، ازبکستان اور فلپائن جیسے ممالک سے بھی نیچے چلا گیا ہے، جس کے بعد مودی حکومت کے ترقی اور بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ سے متعلق دعوئوں پر نئے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی کسی بھی ملک کے سفارتی تعلقات، بین الاقوامی اعتماد اور دوطرفہ ویزا معاہدوں کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں بھارتی شہریوں کے لیے ویزا سہولتوں میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی ہے جبکہ پاسپورٹ کی مسلسل گرتی ہوئی عالمی درجہ بندی پر حکومت کی جانب سے کوئی موثر وضاحت بھی سامنے نہیں آئی۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں مودی حکومت کواس زوال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔بھارتی پاسپورٹ کی "طاقت” پر پی ایم مودی کے 2018کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ”وہ ‘طاقت”کہاں سے ظاہر ہوتی ہے؟ حقائق ان کے دعووئوں کی تردید کرتے ہیں۔انہوں نے لکھا، "مودی حکومت کی پالیسیاں بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہیں۔اگر پاسپورٹ کمزور ہے، سیاحت بحال نہیں ہوئی اور شہری ویزا کی غیر معیاری خدمات کے لیے زیادہ ادائیگی کر رہے ہیں،جس کا مطلب ہے کہ بھارت کی عالمی سطح پر ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔






