مقبوضہ جموں وکشمیر میں گلیشیئرز پگھلنے سے ماحولیاتی بحران سنگین رخ اختیارکررہا ہے
جنگلات کی کٹائی، صنعتی اخراج، یاترا سمیت انسانی سرگرمیاں اہم وجوہات ہیں

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل اور سکڑ رہے ہیں اور انسانوں کی وجہ سے خطے میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں،درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، برف باری میں کمی ہورہی ہے اور موجود ہ برف تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حالیہ سائنسی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سونہ مرگ میں تھجیواس گلیشیئر سمیت کچھ گلیشیئرز اپنی برف کے حجم کا تقریباً 88 فیصد کھو چکے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر نے گزشتہ چھ دہائیوں میں تقریباً 25سے30 فیصد گلیشیئرز کھو دیے ہیں۔ماہرین اور بین الاقوامی رپورٹس نے خبردار کیا ہے کہ ہمالیہ کے گلیشیئرز کے تیزی سے خاتمے کی بڑی وجوہات میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی، صنعتی اخراج، بے لگام سیاحت، امرناتھ یاترا اور دیگر انسانی سرگرمیوں شامل ہیںجو جنوبی ایشیا کے لاکھوں لوگوں کے لیے دریاو¿ں، زراعت، ماحولیاتی نظام اور پانی کی فراہمی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔3 جولائی کو سونہ مرگ میں دریائے سندھ کو برف سے ڈھکی چوٹیوں اور گھاس کے میدانوں کے نیچے بہتا ہوا دکھایا گیا ہے، ایک ایسا منظر جو اب تیزی سے برف پگھلنے کی وجہ سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صنعتی اخراج کو روکنے اور نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام کی حفاظت کے لیے فوری اقدام کیے بغیر، گلیشیئرز کا مسلسل نقصان مقبوضہ جموں و کشمیر اور پورےخطے میں پانی اور ماحولیاتی بحران کو مزید گہرا کرے گا۔






