اسلام آباد:مقررین کا شہید برہان مظفر وانی کوانکے یوم شہادت پرخراجِ عقیدت
اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیراہتمام جموں و کشمیر لبریشن سیل کے تعاون سے کشمیر ہائوس اسلام آباد میں تحریک آزادی کشمیر کے ممتاز نوجوان رہنما شہید برہان مظفر وانی کے یوم شہادت کے موقع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے 8جولائی 2016کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد میںبرہان مظفر وانی کو انکے ساتھیوں کے ساتھ شہید کردیا تھا۔سیمینار کے مہمانِ خصوصی آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار محمد یعقوب خان تھے، جبکہ تقریب کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے سینئر رہنما محمد فاروق رحمانی نے کی۔ نظامت کے فرائض نجیب غفور نے انجام دیے۔سیمینار سے آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان، وزیر برائے سماجی بہبود و ترقی نسواں نبیلہ ایوب، جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کے رہنما عبدالرشید ترابی،سینئر کشمیری حریت رہنما محمود احمد ساغر، الطاف وانی، عابد عباسی، عارف بہار، میڈم شمیم شال، غلام نبی بٹ اور افسر خان نے خطاب کیا۔مقررین نے شہید برہان مظفر وانی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے تمام شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونک دی اور کشمیری نوجوانوں کی ایک نئی نسل کو بھارتی غیر قانونی قبضے کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کیلئے نیا حوصلہ اور عزم عطا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید برہان وانی کی قربانی جرات، استقامت اور حق خودارادیت کیلئے کشمیری عوام کے غیر متزلزل عزم کی علامت بن چکی ہے۔مقررین نے جموں و کشمیر پر بھارت کے مسلسل غیر قانونی قبضے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔سیمینار کے اختتام پر شہید برہان مظفر وانی، ان کے رفقا اور غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے تمام شہدا کے درجات کی بلندی، خطے میں امن و انصاف اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جلد تکمیل کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔اس موقع پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں شہید برہان مظفر وانی سمیت تمام شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ انکے مشن کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاگیا ۔قرارداد میںغیر قانونی طورپر نظربند تمام حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیاگیا ۔قراردادمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اگست 2019کے بعد سے بھارت کی جانب سے نافذ کیے گئے جابرانہ اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں واضح طورپر اعلان کیاگیا کہ کوئی بھی دشمن طاقت آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے درمیان تاریخی اور مضبوط تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتی۔








