نئی دلی: ”سی جے پی“ کا احتجاجی دھرنا مسلسل جاری، 20جولائی کو پارلیمنٹ تک مارچ کا اعلان

نئی دلی:کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ 20جولائی کو مانسون اجلاس کے پہلے دن پارلیمنٹ تک پرامن مارچ نکالے گی۔ پارٹی کا آج دارلحکومت دلی کے جنتر منتر پر پر امن دھرنا آج 21ویں روز بھی جاری رہا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق نوجوانوں کی زیر قیادت تنظیم ”سی جے پی“ امتحانات میں بے ضابطگیوں کے سلسلے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔پارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ بیس جولائی کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کرے گی ۔ مارچ میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ سے تعلق رکھنے والے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک بھی شریک ہونگے جو 28جون سے سی پی جے کے دھرنے میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔ سی پی جے نے بھارت بھر کے طلباء، والدین اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مارچ میں شامل ہوں تاکہ طلباءکے لیے انصاف حاصل کیا جاسکے جنہوں نے مسابقتی امتحانات میں بدعنوانی سامنے آنے کے بعد اپنی زندگیوں کا خاتمہ کیا ہے۔وانگ چک نے بھی ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مارچ میں شامل ہو جائیں ۔ انہوںنے کہا کہ اس مسلے کو اٹھانے کے لیے پارلیمنٹ ایک مناسب فورم ہے ۔ دریں اثنا سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہیں دلی پولیس عملے کے ساتھ بحث و تکرار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔ پولیس نے شدید بارش کے باوجود احتجاج کے مقام تک تارپولین لانے کی اجازت نہیں دی ہے۔








