بھارت :کشمیری طلباءکو آندھرا پردیش میں ہراسانی، حجاب پر پابندی، معطلی کی دھمکیوں کا سامنا

امراوتی : بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں گورنمنٹ نرسنگ کالج کرنول میں داخلہ لینے والے کشمیری طلباءنے کہا ہے کہ انہیں امتیازی سلوک، مذہب کی بنیاد پرہراسانی، دھمکیوں، حجاب پر پابندی اور کالج انتظامیہ کیطرف سے معطلی کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق طلباءنے بتایاکہ انہیں ان کی کشمیری شناخت اور مسلم عقیدے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ بی ایس سی نرسنگ کی تعلیم حاصل کر نے والے کشمیری طلباءنے بتایاکہ ادارے میں رمضان کی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی اورطالبات کو حجاب پہننے پر پابندی، گالم گلوچ اور معطلی کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جموں وکشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے ایک خط میں انہیں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صورتحال سے طلباءکے لئے خوف ودہشت اور ذہنی پریشانی کا ماحول پیداہوا ہے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی اور مجموعی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔طلباءنے شکایت کی کہ باقاعدہ فیس ادا کرنے کے باوجود رمضان المبارک کے دوران ان کے لئے سحری اور افطار ی کے انتظامات نہیں کئے جارہے۔انہوں نے کہا کہ کالج حکام ہم سے سوال کرتے ہیں کہ اگر آپ نے روزے رکھنے اورعبادت کرنی تھی تو اس کالج میں داخلہ ہی کیوں لیا؟سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ طلباءکو سحری اور افطاری کے لیے باہر سے کھانا لانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہاکہ طالبات سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے حجاب کو ہٹا دیں او ر عبادات سے گریز کریں جو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ کشمیری طلباءکا کہنا ہے کہ انہیں الگ تھلگ کیا گیا ہے اورگالم گلوچ کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انہیں احمق،بیکار،بیوقوف اور یہاں تک کہ دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ طلباءسے کہاگیا کہ اگر وہ ان کے ساتھ کئے گئے سلوک کو اجاگر کرتے رہے تو انہیں معطل کیا جائے گا۔








