مضامین

اقوامِ متحدہ کا بھارت کو مراسلہ، 52 ملین ووٹرز کے اخراج، انتخابی دھاندلی اور انسانی حقوق کی پامالی پر وضاحت طلب

ارشد میر

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ بھارت کی 12ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ (52 ملین) ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئےجن میں صرف مغربی بنگال سے 91 لاکھ (9.1 ملین) نام شامل ہیں۔اقوامِ متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں نے حکومتِ ہند کو ایک مراسلہ ارسال کرتے ہوئے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے کیے گئے خصوصی جامع نظرِ ثانی (Special Intensive Revision – SIR) کے عمل کے دوران لاکھوں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے۔ ان ماہرین نے خبردار کیا کہ اس کارروائی سے مسلمان، بنگالی اور دیگر اقلیتی برادریاں غیر متناسب طور پر متاثر ہوئیں جو بھارت کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

یکم مئی 2026ء کو جاری ہونے والا یہ مراسلہ اقوامِ متحدہ کے اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے نکولا لیورا، اظہارِ رائے اور اظہارِ خیال کی آزادی کے خصوصی نمائندے آئرین خان اور مذہبی آزادی یا عقیدے کے امور کی خصوصی نمائندہ نازیلا غنیہ نے مشترکہ طور پر دستخط کرکے حکومتِ ہند کو بھیجا۔ یہ مراسلہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقۂ کار (Special Procedures) کے تحت ارسال کیا گیا۔

ماہرین نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان الزامات کی مکمل تحقیقات کرے، تفصیلی جواب فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ انتخابی عمل سیاسی شرکت، عدمِ امتیاز اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق ہو۔

جمہوریت کی بنیادی روح عوام کی آزادانہ سیاسی شرکت، مساوی حقِ رائے دہی اور ہر شہری کے ووٹ کے احترام سے وابستہ ہوتی ہے۔ کسی بھی جمہوری نظام میں انتخابی فہرستوں کی درستگی ایک اہم انتظامی ضرورت ہےکیونکہ شفاف اور قابلِ اعتماد ووٹر فہرستیں ہی منصفانہ انتخابات کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ تاہم جب یہی عمل لاکھوں شہریوں کے سیاسی وجود، شناخت اور ووٹ کے حق کو متاثر کرنے لگے تو یہ محض انتظامی معاملہ نہیں رہتا بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

انتخابی حق صرف ایک قانونی سہولت نہیں بلکہ شہری شہریت اور ریاستی شمولیت کا بنیادی اظہار ہے۔ کسی فرد کا نام ووٹر لسٹ سے حذف ہونا محض ایک انتخابی اندراج کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی وجود اور جمہوری شرکت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ ووٹر رجسٹریشن کے طریقۂ کار میں ایسی رکاوٹیں پیدا نہیں ہونی چاہئیں جو مخصوص طبقات کو غیر متناسب طور پر متاثر کریں۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے 52 ملین متاثرین میں سے اکثریت کے پاس درست شناختی دستاویزات موجود تھیں۔اس کے باوجود ان کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کر دیے گئے۔خصوصی نمائندوں نے اس اہم نکتہ کی جانب توجہ دلائی کہ اس نام نہاد نظرِ ثانی کے عمل میں بطور خاص مسلمان ووٹر نشانہ بنائے گئے۔
مراسلے میں نندی گرام اسمبلی حلقے کی مثال دی گئی جہاں حذف کیے گئے ووٹروں میں 95 فیصد مسلمان تھے حالانکہ اس حلقے کے کل ووٹروں میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 25 فیصد ہے۔ متاثرین میں مرد، خواتین اور بزرگ بھارتی شہری شامل ہیں جن کے پاس معتبر شناختی دستاویزات موجود ہیں۔ اگر کسی علاقے میں حذف کیے گئے ووٹروں کی اکثریت ایک مخصوص مذہبی برادری سے تعلق رکھتی ہو تو کیا یہ محض انتظامی غلطی ہے یا اس کے پیچھے کوئی ساختی مسئلہ موجود ہے؟ جمہوری معاشروں میں ایسے سوالات کا جواب شفاف تحقیقات، قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور غیر جانب دار ادارہ جاتی طریقۂ کار کے ذریعے دیا جاتا ہے۔

مراسلہ میں اس بات پر حیرت کا اظہار کہا گیا کہ متاثرہ افراد نے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے رجوع کیاتاہم 6 اپریل 2026ء کو سپریم کورٹ نے SIR کے عمل پر عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا۔

مراسلے کے مطابق سرکاری دستاویزات میں معمولی ہجوں کی غلطیاں یا املا کے اختلافات، جو ایک عام انتظامی مسئلہ متصور ہیں، بھی ووٹروں کے نام خارج کرنے کی بنیاد بنائے گئے۔ صرف مغربی بنگال میں تقریباً 27 لاکھ افراد کو "منطقی تضادات” (Logical Discrepancies) کے زمرے میں رکھ کر ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کیا گیا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سرکاری ریکارڈز میں ناموں کے ہجے، پتوں یا دستاویزی تفصیلات میں معمولی فرق ایک عام مسئلہ ہوتا ہے۔ ایسے معاملات کو درست کرنے کے لیے اصلاحی طریقۂ کار موجود ہونا چاہیے، نہ کہ فوری طور پر شہریوں کو سیاسی عمل سے خارج کر دیا جائے۔ اگر معمولی غلطیاں لاکھوں افراد کے ووٹ کے حق کو متاثر کریں تو یہ انتظامی انصاف اور متناسب کارروائی کے اصولوں کے خلاف سوالات پیدا کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس سے قبل بہار میں ہونے والی اسی نوعیت کی کارروائی کا بھی حوالہ دیاجس کے بارے میں ماہرین و مبصرین نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو بڑے پیمانے پر حقِ رائے دہی سے محروم کرنے اور ان کی شہریت پر سوال اٹھانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

مراسلے میں یہ اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ ووٹر ڈیٹا میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام استعمال کیا گیا۔اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت، ممکنہ غلطیوں اور الگورتھم میں موجود تعصب (Algorithmic Bias) سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اتنے حساس انتظامی عمل میں AI کا استعمال کروڑوں جائز ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے اور جمہوری انصاف کو متاثر کرنے کا باعث بنا۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کا معاملہ بھی موجودہ دور کے اہم مباحث میں شامل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی انتخابی نظام کو بہتر بنانے، ریکارڈز کی درستگی اور جعل سازی کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے لیکن حساس شعبوں میں اس کے استعمال کے لیے شفافیت، انسانی نگرانی اور جواب دہی ضروری ہے۔ الگورتھم اگر غلط ڈیٹا، نامکمل معلومات یا پوشیدہ تعصبات کی بنیاد پر فیصلے کریں تو ان کے نتائج بڑے پیمانے پر ناانصافی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ووٹر کے بنیادی حق سے متعلق فیصلے مکمل طور پر خودکار نظام پر چھوڑنا جمہوری اصولوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں آئی ٹی کے شعبہ کی بادشاہی کے دعویدار ملک کی حکو مت کو کیا یہ علم نہیں کہ مصنوعی ذہانت کااستعمال اس اہم اور حساس معاملے میں شفافیت کو متاثر کرے گا؟

اقوام متحدہ کے مراسلے میں کہا گیا کہ 16 اپریل 2026ء کو سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے مغربی بنگال کے ان ووٹروں کو دوبارہ ووٹ کا حق دینے کی اجازت دی جن کی اپیلیں 21 اور 27 اپریل سے پہلے منظور ہو گئی تھیں۔ یہ فیصلہ 23 اور 29 اپریل 2026ء کو ہونے والے دو مرحلوں پر مشتمل ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل دیا گیا۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ کامیاب اپیل کنندگان کے نام ضمنی انتخابی فہرستوں میں شامل کیے جائیں جبکہ جن کی اپیلیں زیرِ التوا رہیں، انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے۔تاہم خصوصی نمائندوں نے تشویش ظاہر کی کہ اس عمل کے نتیجے میں 34 لاکھ سے زائد اپیلیں دائر ہوئیں جس سے متعلقہ ٹربیونلز پر انتہائی مختصر مدت میں فیصلے کرنے کا غیر معمولی دباؤ پڑا اور اس خدشے میں اضافہ ہوا کہ لاکھوں اہل ووٹر انتخابات میں حصہ لینے سے محروم رہ جائیں گے۔

کسی بھی جمہوری معاشرے کی طاقت اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کے حقوق کا کتنا تحفظ کرتا ہے۔ انتخابی عمل کا مقصد شہریوں کو شامل کرنا ہونا چاہیے، خارج کرنا نہیں۔ بھارت سمیت دنیا کے تمام جمہوری ممالک کے لیے یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ قومی سلامتی، انتظامی اصلاحات یا انتخابی شفافیت کے نام پر شہری آزادیوں اور سیاسی حقوق کو متاثر نہ ہونے دیا جائے۔

اقوام متحدہ کے مراسلے میں نام نہاد نظر ثانی عملSIR کے دوران بعض اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کے بیانات پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔خط کے مطابق، مرکزی وزیرِ داخلہ سمیت بعض حکومتی عہدیداروں نے ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کارروائی کو "غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن” کے خلاف مہم کے طور پر پیش کیاجس سے بھارتی مسلمان شہریوں اور غیر ملکیوں کے درمیان فرق کو دانستہ طور پر دھندلایا گیا۔ مراسلے میں انتخابی عمل کے حوالے سے "Detect, Delete and Deport” کی اصطلاح کے بار بار استعمال کا بھی ذکر کیا گیا۔ کسی بھی جمہوری نظام میں غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنا ریاست کا اختیار ہےلیکن اس عمل میں یہ ضروری ہے کہ حقیقی شہریوں اور غیر ملکی افراد کے درمیان واضح قانونی فرق برقرار رکھا جائے۔ اگر کسی مذہبی یا نسلی گروہ کو عمومی طور پر شک کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس سے سماجی تقسیم اور عدمِ تحفظ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق ایسی زبان بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کے آرٹیکل 20(2) کے تحت ممنوع مذہبی یا قومی نفرت کے فروغ کے زمرے میں آ تی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریاستی انتخابی عمل کو کسی مخصوص مذہبی برادری کو ہدف بنانے سے مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں کو تقویت ملی ہے جو نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی کنونشن (ICERD) کے تحت بھارت کی ذمہ داریوں سے متصادم ہے۔
خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت سے سات اہم نکات پر تفصیلی معلومات طلب کیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ نام نہاد نظر ثانی عمل کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے یا نااہل قرار دیے گئے افراد کے نسلی اور مذہبی پس منظر سے متعلق اعداد و شمار فراہم کیے جائیں یا اگر ایسی معلومات دستیاب نہیں تو اس کی وجہ بتائی جائے۔اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے یاد دلایا کہ بھارت بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) اور 1992ء کے اقوامِ متحدہ کے اقلیتوں کے حقوق کے اعلامیے سمیت متعدد بین الاقوامی معاہدوں کا پابند ہے۔انہوں نے کہا کہ ICCPR کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو بلاجواز پابندیوں کے بغیر ووٹ ڈالنے اور عوامی امور میں شرکت کا حق دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 27 نسلی، مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ووٹر رجسٹریشن کا طریقہ کار معروضی، معقول اور امتیازی سلوک سے پاک ہونا چاہیے جبکہ بھارتی حکوت کے نام نہاد نظر ثانی عمل کے دوران اختیار کیے گئے طریقۂ کار نے غیر متناسب طور پر مسلمان شہریوں کو متاثر کیا۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ انتہائی محدود مدت، AI کے طریقۂ کار میں غیر شفافیت اور معاشی و لسانی طور پر محروم طبقات کو اپنے اخراج کے خلاف مؤثر اپیل میں پیش آنے والی مشکلات، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت حقِ رائے دہی پر غیر معقول پابندیوں کے مترادف ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ ہند کا جواب موصول ہونے یا 60 دن گزرنے کے بعد یہ خط اور حکومتی جواب عوام کے لیے جاری کر دیے جائیں گےاور یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی متواتر رپورٹنگ کا بھی حصہ بن سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری عبوری اقدامات کرتے ہوئے خلاف ورزی کا سلسلہ کوروکےاور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائے۔

مودی سرکار اس عمل کو کیا روکے گی اور کس کا احتساب کرے گی جبکہ یہ سب اسکے اُس قومی اور مذہبی نطریہ کا حصہ ہے جسکا وہ دہائیوں سے پرچار اور اب ایک دہائی سے زائد عرصہ سے ریاستی وسائل اور اختیارات کے استعمال کے ساتھ اس پر پوری طاقت اور ڈھٹائی کے ساتھ عمل درآمد کررہی ہے۔ جس ملک میں اقلیتوں کوحاشیہ پہ دھکیلنے کے لئے بیک وقت کئی ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہوں، سیاسی لیڈر یہاں تک وزراء ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے عزم کا بار باراظہار کرتے ہوں، ہر روز ہر علاقہ میں سرکاری کارندوں کے ساتھ ساتھ عام جنونی اور بے لگام ہندو اقلیتوں خصوصا مسمانوں کی جان و مال ، عزت و آبرو اور تہذیب و تاریخ پر حملے کررہے ہوں ، وہاں حکومت سے انتخابی بے ضابگیوں کو دور کرنے کی میٹھی سی اپیل کوئی اثر نہیں رکھتی۔ ملحوظ رہے کہ اقوام متحدہ کے اس اہم مراسلے اور اس میں مودی سرکار کی طرف سے مذہبی اور نسلی بنیادوں پر رائے دہندگان کے حق پر شب خون مارنے کی بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی کی نشان دہی کے باوجود نام نہاد نظر ثانی کے فسطائی عمل کا تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے جو ہماچل پردیش، مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کے علاوہ پورے بھارت پر محیط ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button