مضامین

ہندوتوا کے قلعے میں دراڑیں

BJP (بیٹی) کاRSS (ماں) سے بڑی ہونے کے باعث نظریاتی بحران

 

بھارت کی موجودہ سیاست میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو طویل عرصے سے ایک دوسرے کا لازمی سیاسی و نظریاتی شریک سمجھا جاتا رہا ہے۔ آر ایس ایس نے 1925ء میں ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار کی قیادت میں ایک سماجی و نظریاتی تنظیم کے طور پر آغاز کیاجس کا مقصد ہندو قوم پرستی یا "ہندوتوا” کے تصور کو فروغ دینا تھا۔ بعد ازاں 1951ء میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے بھارتیہ جن سنگھ کی بنیاد رکھی جسے آر ایس ایس کی سیاسی شاخ سمجھا گیا۔ یہی جماعت بعد میں 1977ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی شکل میں سامنے آئی۔

دہائیوں تک آر ایس ایس نے تنظیمی ڈھانچہ، کارکن اور نظریاتی رہنمائی فراہم کی جبکہ بی جے پی نے پارلیمانی سیاست میں اس ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ تاہم حالیہ برسوں میں دونوں کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا ہندوتوا کا یہ دیرینہ اتحاد اندرونی تضادات کا شکار ہو چکا ہے؟

حالیہ رپورٹس اور بی جے پی کے سینئر رہنما کیلاش وجے ورگیہ کے بیانات نے ان اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پارٹی کی تیز رفتار توسیع کے باعث نظریاتی طور پر تربیت یافتہ کارکنوں کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق متعدد افراد صرف اقتدار اور عہدوں کے حصول کے لیے بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں اور بعض تو اپنے خاندان کے آر ایس ایس سے تعلق کے مبالغہ آمیز یا غیر مصدقہ دعوے بھی کرتے ہیں۔ یہ اعتراف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بی جے پی کی انتخابی وسعت اور تنظیمی معیار کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔

آر ایس ایس کی بنیادی شناخت ایک کیڈر پر مبنی تنظیم کی رہی ہے جہاں تنظیمی نظم و ضبط، نظریاتی تربیت اور اجتماعی قیادت پر زور دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ناقدین اور بعض مبصرین کے مطابق نریندر مودی کے دور میں بی جے پی کی سیاست ایک ایسی قیادت کے گرد مرکوز ہوتی گئی جس میں فیصلہ سازی کا بڑا حصہ مرکزی سطح پر سمٹ گیا اور انتخابی مہمات میں شخصیت پر مبنی انداز نمایاں ہوا۔ اسی تناظر میں بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے بعض حلقوں کو خدشہ ہے کہ تنظیمی اجتماعی روایت کمزور پڑ رہی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ آر ایس ایس اور اس کی سیاسی شاخ کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہوں۔ 1998ء سے 2004ء کے دوران اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں بھی اقتصادی اصلاحات، نجکاری، عالمی سرمایہ کاری اور بعض خارجہ پالیسی معاملات پر آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں، خصوصاً بھارتیہ مزدور سنگھ اور سوا دیشی جاگرن منچ نے اختلافی آراء کا اظہار کیا تھا۔ اس دور میں بھی یہ تاثر موجود رہا کہ حکومت کو نظریاتی تقاضوں اور عملی حکمرانی کے درمیان توازن قائم رکھنا پڑ رہا ہے۔

اسی طرح 2005ء میں لال کرشن ایڈوانی کے پاکستان دورے کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں ان کے مثبت ریمارکس پر بھی آر ایس ایس نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ نظریاتی اختلافات ماضی میں بھی موجود رہے اگرچہ انہیں زیادہ تر تنظیمی دائرے میں ہی رکھا گیا۔

2014ء میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی نے مسلسل انتخابی کامیابیاں حاصل کیں۔ 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کے خاتمے ، شہریت ترمیمی قانون (CAA) کی منظوری اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر جیسے اقدامات کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے مشترکہ نظریاتی اہداف کی تکمیل کے طور پر دیکھا گیا۔ تاہم بعض سیاسی مبصرین کے مطابق انہی کامیابیوں کے بعد پارٹی میں شخصی قیادت کا عنصر زیادہ نمایاں ہوتا گیاجس کے باعث تنظیمی سطح پر نئے سوالات بھی پیدا ہوئے۔

بی جے پی نے مختلف جماعتوں سے آنے والے بااثر سیاست دانوں کو بڑی تعداد میں شامل کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس حکمت عملی نے انتخابی طور پر پارٹی کو وسعت تو دی مگر اس کے نتیجے میں برسوں سے کام کرنے والے نظریاتی کارکنوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوا۔ یوں شُدھی تحریک اشُدھی ہوگئی۔ آر ایس ایس کے لیے، جو خود کو نظریاتی تربیت اور تنظیمی وابستگی کی بنیاد پر قائم ادارہ سمجھتی ہے، یہ رجحان تشویش کا باعث بن گیا۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ دوریوں کو صرف تنظیمی اور نظریاتی اختلاف تک محدود نہیں سمجھا جا رہا بلکہ بعض مبصرین کے مطابق اس کے پس منظر میں سیاسی اور اخلاقی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ آر ایس ایس کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً موہن بھاگوت اور دتاتریہ ہوسابھلے نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کرکے اس ضمن میں حکومت کے شدت پسندانہ انداز کو گویا مسترد کردیا۔ موہن بھاگوت نےتو بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہا کہ بھارت کو "ہٹلر جیسا رویہ” اختیار نہیں کرنا چاہیے اور بات چیت کے امکانات کو مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سنگھی قیادت مودی سرکار کی ناکام عسکری اور سفارتی پالیسیوں پر ناخوش ہے اوران کے اثرات سے آر ایس ایس کو دور رکھنا چاہتی ہے۔ اگرچہ بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جنگ مئی میں بدترین شکست کے بعد مودی سرکار کو احساس ہوگیا ہے کہ پاکستان کو تر نوالہ سمجھ کر فوج کے ذریعہ زیر کرنے کی سوچ غلط اور سنگین نوعیت کی خود فریبی ہےاوراسی وجہ سے وہ جولائی 2025 سے مختلف ملکوں میں پاکستان کے ساتھ خفیہ مذاکرات کررہی ہے جبکہ دوسری طرف بھارت پر فتح اور ایران جنگ رکوانے میں غیر معمولی کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان کا عسکری ، سفارتی اور سیاسی پروفائل بہت بڑھ جانے کے بعد امریکہ نے مودی سرکار کو اپنی معاندانہ روش ترک کرنے پر دباؤ ڈالا ہے اورمودی حکومت کی فیس سیونگ کے لئے آر ایس ایس کی قیادت سے یہ بیانات دلوائے گئے تاہم موہن بھاگوت کا یہ کہنا کہ بھارت کو "ہٹلر جیسا رویہ” اختیار نہیں کرنا چاہئے اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ آر ایس ایس مودی سرکار کے بوجھ کو مزید اٹھانا نہیں چاہتی ۔

دوسری طرف ایودھیا میں رام مندر کے عطیات میں مالی بے ضابطگیوں نے ہندوتوا کی اخلاقی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کانگریس نے اس معاملے پر وزیراعظم مودی اور بی جے پی کو ذمہ دار قرار دیا ہےلیکن آر ایس ایس نے خود بھی اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس سے یہ تاثر ابھرا کہ سنگھ اپنی تنظیمی ساکھ کو حکومت اور رام مندر ٹرسٹ سے متعلق تنازعات سے الگ رکھنا چاہتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب مودی حکومت دفاع اور خارجہ محاذوں پر بدترین ناکامیوں، ملکی ساکھ میں تنزلی ، کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری، معاشی تفاوت، زرعی مسائل اور بعض ریاستوں میں سیاسی کشیدگی پر سخت تنقید کی ذد میں ہے۔ اس تناظر میں بعض ماہرین کے مطابق تنظیمی فاصلہ مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ اس بارے میں آر ایس ایس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوتوا سیاست اور اس کے اثرات پر مختلف تحقیقی اداروں اور مبصرین نے بحث کی ہے۔ متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں، تعلیمی مطالعات اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت میں مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق اور جمہوری اداروں کی خودمختاری سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب بی جے پی اور اس کے حامی ان پالیسیوں کو قومی یکجہتی، سلامتی اور ثقافتی شناخت کے فروغ سے جوڑتے ہیں۔ اس لیے اس موضوع پر مختلف اور بعض اوقات متضاد آراء موجود ہیں۔

اگر آر ایس ایس اور بی جے پی کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف تنظیمی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بھارتی سیاست کے مستقبل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ آر ایس ایس کے لاکھوں تربیت یافتہ کارکن انتخابی مہمات، سماجی رابطوں اور تنظیمی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر تنظیم اور پارٹی کے درمیان اعتماد میں کمی آتی ہے تو انتخابی حکمت عملی، تنظیمی ہم آہنگی اور نظریاتی سمت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارتی سیاست میں نظریاتی جماعتوں کو وقت کے ساتھ عملی سیاست کے تقاضوں سے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ اقتدار کے تقاضے اکثر نظریاتی خالص پن اور انتخابی وسعت کے درمیان توازن کا امتحان لیتے ہیں۔ یہی چیلنج آج بی جے پی اور آر ایس ایس کے تعلقات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔

بحرحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے تعلقات کسی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں کیونکہ دونوں تنظیمیں تاریخی طور پر ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ رہی ہیں اور مسلم خاص طور پر کشمیرو پاکستان دشمنی اور اس سے مالی اور سیاسی فوائد حاصل کرنا دونوں جماعتوں کی بنیادی اساس ہے۔ ماضی میں اختلافات کے باوجود دونوں ساتھ کام کرتی رہی ہیں تاہم حالیہ بیانات اور سیاسی مباحث یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ تنظیمی ترجیحات، قیادت کے انداز، نظریاتی وابستگی اور سیاسی توسیع کے درمیان توازن کا سوال پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔ اگر ان اختلافات کو حل نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف بی جے پی کی داخلی سیاست بلکہ ہندوتوا کے وسیع تر سیاسی و نظریاتی منصوبے کے لیے بھی ایک اہم آزمائش ثابت ہو سکتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button