ڈھاکہ میں پیش کیے گئے نقشے پر بھارت کا منافقانہ رد عمل
بھارت طاقت کے استعمال سے تاریخ کو تبدیل نہیں کر سکتا

اسلام آباد: سیاسی مبصرین اورتحزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ڈھاکہ میں ایک سیمینار کے دوران دکھائے گئے ایسے نقشے پر بنگلہ دیش کو سفارتی دباو میں لانے کی کوشش کر رہی ہے جو جموں و کشمیر کی زمینی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن کی اہلکار پوجا کماری جھا نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا ”اٹوٹ انگ“ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہی بھارت چند ماہ قبل اس وقت مشکوک خاموشی اختیار کیے ہوئے تھا جب امریکہ نے بھی اسی نوعیت کا ایک نقشہ جاری کیا تھا۔ نہ کوئی ہنگامی سفارتی احتجاج ہوا، نہ میڈیا میں شور مچا اورنہ ہی سفیروں کو طلب کیا گیا۔ لیکن جب ایک خودمختار ہمسایہ ملک یعنی بنگلہ دیش حقائق کو تسلیم کرتا ہے تو اچانک یہ بھارت کے لیے ہنگامی مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہ بھارت کی روایتی منافقت اور چھوٹے ہمسایہ ممالک کو جان بوجھ کر دبانے کی پالیسی کی ایک اور مثال ہے۔تحزیہ کاروں نے کہاکہ بھارت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بنگلہ دیش یا کسی بھی خودمختار ملک پر دباو ڈالے یا اسے یہ ہدایت دے کہ متنازعہ علاقوں کو کس طرح نقشے میں دکھایا جائے۔
تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ جموں وکشمیر پر پاکستان کے جائز دعوے اور قانونی موقف کو نئی دہلی کی ہٹ دھرمی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور یہی حقیقت ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کبھی بھی بھارت کے یکطرفہ اقدامات، خصوصاً دفعہ370 کی غیر قانونی منسوخی کی توثیق نہیں کی۔ دنیا کی کسی بڑی طاقت یا بین الاقوامی ادارے نے بین الاقوامی اصولوں اور کشمیریوں کے حقوق کی اس کھلی خلاف ورزی پر مہرِ تصدیق ثبت نہیں کی۔ خود کشمیری عوام نے اپنی بے مثال قربانیوں اور مزاحمت سے بارہا ثابت کیا کہ وہ بھارت کے جبری قبضے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کی ان قراردادوں کے مطابق کشمیر کی تاریخی اور قانونی حیثیت کے موقف پر قائم ہے جن میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کیا گیا ہے—ایک ایسا وعدہ جس سے بھارت دہائیوں سے گریز کرتا آیا ہے۔ بھارت طاقت کے استعمال، آئینی ہتھکنڈوں یا میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے تاریخ کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔نقشے، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، قربانیاں اور عوام کی خواہشات سب نئی دہلی کی نوآبادیاتی سوچ کے خلاف ہیں۔ تازہ معاملہ دراصل اس بات پر بھارت کی مایوسی کا اظہار ہے کہ دنیا اب اس کے بیانیے کو تسلیم نہیں کر رہی۔ مودی حکومت دوسروں کو خودمختاری کا درس دیتی ہے، مگر خود کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو پامال کرتی ہے اور جب ہمسایہ ممالک اس کی مرضی کے مطابق چلنے سے انکار کرتے ہیں تو بوکھلا جاتی ہے۔ پاکستان حقائق کو اجاگر کرتا رہے گا،کشمیر ی عوام اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے اور بھارت کی سفارتی جارحیت یا نقشوں کو بدلنے کی کوششیں اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتیں کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے مستقبل کا تعین ہونا ابھی باقی ہے اور بھارت کا قبضہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ ڈھاکہ پر دباﺅ ڈالنے کے بجائے اپنی داخلی ناکامیوں پر توجہ دے کیونکہ تاریخ مودی کی انا کے مطابق اپنا رخ تبدیل نہیں کر سکتی۔







