بھارت

بھارت :ہندوتوا تنظیمیں شیوا جی کو مسلمانوں کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں

نئی دہلی: بھارت میں ہندو قوم پرست تنظیموں نے 17ویں صدی کے مراٹھہ نسل پرست بادشاہ چھترپتی شیواجی کے سینکڑوں مجسمے مختلف شہروں میں نصب کر دیے ہیں جو انہیں مسلمانوں کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق2022 سے تلنگانہ اور مہاراشٹرسمیت مختلف ریاستوںا اورمقبوضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ میں مقامی حکام اور فوج کی مدد سے 27 میٹر تک بلند مجسمے نصب کئے گئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مہم ہندوتوا کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد ایک ہندو ثقافت کو آگے بڑھانا اور بھارت کو ایک حقیقی ہندو ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے۔سانتا کلارا یونیورسٹی کے پروفیسر روہت چوپڑا نے کہا کہ شیواجی کو صرف مہاراشٹرمیں ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں ایک ہندو قوم پرست شخصیت کے طور پرپیش کیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ یہ بیانیہ تاریخی طور پر بالکل غلط ہے کیونکہ شیواجی کی فوج میں مسلمان تھے اور اورنگ زیب کی فوج میں ہندو تھے اور یہ کہ لڑائیاں مذہبی نہیں بلکہ علاقائی تھیں۔2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو مسلسل نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ مجسمے نصب کرنے کی مہم چلائی گئی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مجسمے ایک اور بات کی یاد دہانی ہیں کہ اقلیتوں کا عوامی مقامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ متعدد ریاستوں میں بی جے پی کی زیر قیادت حکومتوں نے شیواجی کی میراث کو فروغ دینے والے منصوبوں کے لیے فنڈز بھی مختص کیے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button