بھارت میں مسلمان خاتون کی سرعام تذلیل، ہندو جنونیوں نے برقع کھینچ کر زبردستی سندور لگادیا

نئی دہلی : مودی کی سرپرستی میںآرایس ایس کے غنڈوں نے بھارتی مسلمانوں کے لیے اپنی شناخت اورعزت کا تحفظ بھی مشکل بنادیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی ہندوتواحکومت اقلیتوں پرمظالم کی سرپرستی کرکے اپنا ووٹ بینک مضبوط کررہی ہے۔” دی ہندوستان گزٹ“ کے مطابق بہارکے ضلع نواڈا کے علاقے کمل پورمیں ہندوانتہا پسندوں نے ایک مسلمان خاتون کونقاب اتارکر سندورلگانے پرمجبورکیا۔ہندو انتہا پسندوںنے مسلمان خاتون سے برقع اتروایا، پیشانی پرسندورلگایا اوربجرنگ بلی کے نعرے لگائے۔مسلمان خاتون کی طرف سے مزاحمت کے باوجود ہندو انتہاپسند ویڈیو بناتے رہے اورکہتے رہے کہ یہ ویڈیو ہرحال میں بنے گی۔ خاتون کے وہاں سے اسکوٹرپرنکلنے کی کوشش کے باوجود ہندو انتہاپسند اس کا تعاقب کرتے رہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال دسمبرمیں بہارکے ہی وزیراعلیٰ نتیش کمارنے ایک تقریب میں ایک مسلمان خاتون ڈاکٹرکا نقاب کھینچا تھا۔انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مودی کی انتخابی مہم میں مسلمانوں اوراقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات نے امتیازی سلوک اورتشدد کو ہوا دی ہے۔مودی کے بھارت میںمسلمانوں اوردیگراقلیتوں کیخلاف بڑھتے تشدد سے نام نہاد سیکولرازم کے دعوﺅں کی قلعی کھل چکی ہے۔







