مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی پولیس نے تین پبلشرز کو گرفتار کر لیا

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے دو کتابوں میں حریت قیادت کے ناموں کو شامل کرنے پر تین پبلشرز کو گرفتار کر لیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حکام نے بتایا کہ پولیس نے کاونٹر انٹیلی جنس یونٹ کے ساتھ مل کر اتوار کو جموں میں کتابوں کے بارے میں جاری تحقیقات کے لئے تین پبلشرز کو گرفتار کیا۔یہ گرفتاریاں جموں اور دہلی میں مربوط کارروائیوں کے بعد کی گئیں۔ یہ کارروائی کتابوں اور ان کے مواد کی اشاعت اور تقسیم کی تحقیقات کا حصہ ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ تفتیش کار مواد کی طباعت اور تقسیم میں پبلشرز کے کردار کی چھان بین کر رہے ہیں۔کاونٹر انٹیلی جنس یونٹ نے4 جولائی کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون سمیت کالے قوانین کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی۔ یہ کارروائی سرکاری لائبریریوں سے ملنے والی دو کتابوں میں حریت رہنماوں سید علی گیلانی، محمد مقبول بٹ، میر واعظ عمر فاروق، مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور دیگر کی سیاسی سرگرمیوں کو شامل کرنے کی اطلاع موصول ہونے کے بعد کی گئی۔ زیر بحث کتابوں کے نام” پرسنلٹیز اینڈ لیجنڈز آ جموں وکشمیر“ہے جسے ہلال احمد اور سنتوش مینا نے تصنیف کیا ہے اور اسے جموں کی اوبرائے بک سروس نے شائع کیا ہے۔دوسری کتاب”جموں وکشمیر کی عظیم شخصیات“ سوشانت گری کی تصنیف ہے اور اسے دہلی کے انوراگ پرکاشن نے شائع کیا ہے۔ گرفتار کیے گئے تین پبلشرز میں اوبرائے بک سروس سے اندرپال اور نوئیڈا میں مقیم ڈومیننٹ پبلشرز سے امردیپ سنگھ اور گریش اروڑہ شامل ہیں۔اس سے قبل بی جے پی حکومت نے اوبرائے بک سروس اور ڈومیننٹ پبلشرز کو بلیک لسٹ کیا تھا۔ کاونٹر انٹیلی جنس ٹیموں نے 6 جولائی کو ان کے دفاتر پر چھاپے مارے۔حکام کے مطابق ایک کتاب کی 123 کاپیاں جموں، رامبن اور ادھم پور اضلاع میں تقسیم کی گئیں، جبکہ دوسری کتاب کی 128 کاپیاں جموں اور بارہمولہ اضلاع میں بھیجی گئیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے محکمہ تعلیم کے آٹھ افسروںکو معطل اور ایک کنٹریکٹ ملازم کو برطرف کر دیا ہے۔







