بھارت:مسلمان رہنماوں نے ہجومی تشدد سے بچنے کے لیے شناخت چھپانے کا مشورہ مسترد کردیا

بھوپال :مسلمان علمائے دین، سیاسی رہنماوں اور کارکنوں نے سابق بھارتی افسر نیاز خان کو یہ مشورہ دینے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایاکہ بھارتی مسلمانوں کو ہجومی تشدد سے بچنے کے لیے اپنی روایتی لباس تبدیل کرنی چاہیے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیاز خان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاتھاکہ لنچنگ کے بہت سے متاثرین کو کرتہ پاجامہ ، داڑھی اور ٹوپی سے شناخت کیا گیا اور مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ترکوں جیسا لباس اپنائیں تاکہ ان کی مذہبی شناخت فوری طور پر نظر نہ آئے۔مسلمان اسکالر توقیر نظامی نے اس مشورے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے کبھی اپنی شناخت نہیں چھپائی اور نہ آئندہ چھپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داری حکام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ حملہ آوروں کو روکیں، نہ کہ متاثرین کی کہ وہ اپنا لباس بدلیں۔کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے کہا کہ بھارت کا آئین ہر شہری کو اپنے لباس کا انتخاب کرنے اور بلا خوف زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ دہلی میں مقیم سماجی کارکن اقبال احمد نے کہاکہ نیاز خان انصاف کا مطالبہ کرنے کے بجائے متاثر ین پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکسی بھی شہری کو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ محفوظ رہنے کے لیے اپنی شناخت چھپائے۔ اس بیان کو بی جے پی کے کچھ لیڈروں کی حمایت حاصل ہے۔ بھوپال میں بی جے پی کے رکن اسمبلی آلوک شرما نے کہا کہ وہ نیاز خان کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ان تبصروں نے مذہبی آزادی، ہجومی تشدد اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے کے حق کے بارے میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ توجہ کمیونٹیز سے اپنی شناخت چھپانے پر نہیں بلکہ نفرت پر مبنی جرائم کو روکنے اور احتساب کو یقینی بنانے پر ہونی چاہیے۔






