بھارت

بھارت : مودی مخالف مواد کو ہٹانے پر ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں کی شدید تنقید

نئی دہلی: بھارت کی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے جنتر منترپر احتجاج کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف شیئر کئے گئے سوشل میڈیا پوسٹس کو ہٹائے جانے کی مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر آئینی، من مانا اور آزادی اظہار کے آئینی حق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ذرائع ابلاغ کاکہناہے کہ دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھارت بھر میں نوجوانوں کے حالیہ مظاہروں کے دوران شیئر کی گئی مودی مخالف تنقیدی پوسٹس اور ویڈیوز کو ہٹا دیں۔مظاہروں کے دوران مودی مسلسل تنقید کا نشانہ بن گئے، مظاہرین نے ان کے خلاف پوسٹرز، میمز اور دیگر مواد پوسٹ کیا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس کی سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیم نے آن لائن پلیٹ فارمز کو موادہٹانے کے نوٹس جاری کرنے سے پہلے بھارتی وزیر اعظم کے خلاف توہین آمیز بیانات پر مشتمل پوسٹس، ویڈیوز اور تبصروں کی نشاندہی کی۔ پولیس نئے اپ لوڈ کردہ مواد کی بھی نگرانی کر رہی ہے۔نئی دہلی میں قائم انٹرنیٹ فریڈم فاو¿نڈیشن (IFF) نے اس اقدام کو سیاسی تقریر کی غیر آئینی سنسرشپ قرار دیا اور نوٹسز کوفوری طورپر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ آئی ایف ایف نے کہا کہ وزیر اعظم پر تنقید چاہے کتنی ہی جارحانہ ہو،بھاتی آئین کے آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت جائز ہے۔تنظیم نے کہاکہ جو طلباءامتحانی نظام پر سوال اٹھاتے ہیں وہ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کی پوسٹس کو حذف کرنے سے ان کے سوالات حذف نہیں ہوں گے۔سافٹ ویئر فریڈم لاءسینٹر، انڈیا (SFLC.in) نے بھی مواد ہٹانے کی مہم کی مذمت کی اور اسے غیر آئینی قرار دیا۔ اس نے خبردارکیا کہ یہ عمل ایک”بلیک باکس سنسرشپ نظام“کو جنم دیتا ہے جس میں شفافیت، جوابدہی اور متاثرہ صارفین کی موثر شنوائی کا فقدان ہے، اس نے مواد ہٹانے کی درخواستوں کی عدالتی اور آزادانہ نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔یہ بات قابل ذکرہے کہ امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف بھا رت بھر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران جنتر منتر کے ارد گرد انٹرنیٹ کی بندش، سوشل میڈیا اکاو¿نٹس کی معطلی، مواد ہٹانے اور مظاہرین کے موبائل فونز کی پولیس چیکنگ سمیت ڈیجیٹل کریک ڈاو¿ن جاری تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button