بھارت

بھارت میں نئے لیبر قوانین کیخلاف مزدور یونینوں کا ملک گیر احتجاج کااعلان

نئی دہلی:بھارت میں مختلف مزدوریونینوں نے حال ہی میں نا فذہونے والے نئے لیبر قوانین کو مزدوروں کے حقوق پر ڈاکہ قراردیتے ہوئے ملک گیر احتجاج کااعلان کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت کی دس بڑی ٹریڈ یونینوں نے حکومت کی طرف سے نافذ کردہ چار نئے لیبر قوانین کو مزدوروں کے ساتھ دھوکہ قرار دیتے ہوئے ان کی فوری منسوخی کا مطالبہ کیا اور بدھ یعنی26 نومبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ یہ یونینیں گزشتہ 5برسوں سے ان قوانین کی مسلسل مخالفت کر رہی ہیں۔یہ چاروں لیبر کوڈ 5سال قبل پارلیمنٹ نے منظور کئے تھے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے برطانوی دور کے پیچیدہ قوانین کو آسان بنایا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہوگا،مزدوروں کو سماجی تحفظ حاصل ہوگا اور وہ کم از کم اجرت سے بھی مستفید ہوں گے۔ حکومت کے دعوئوں کے برعکس مزدور یونینوں کا کہنا ہے کہ یہ قوانین کمپنیوں کو آسانی سے ملازمین کو برطرف کرنے کی اجازت دیتے ہیں جو مزدوروںکے حقوق پر ڈاکہ کے مترادف ہے۔ ماہرین کے مطابق پرانے قوانین میں کی گئی ان تبدیلیوں سے اب فیکٹریوں میں شفٹیں لمبی ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح خواتین کو رات کی شفٹ میں کام کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباریوں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف انڈین انٹرپرینیورز نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے قوانین سے ان کے اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور کئی شعبوں کے کاروبار میں خلل پڑے گا۔پانچ سال قبل پارلیمنٹ کے منظور کردہ جن چار لیبر کوڈز کو ملک بھر میں نافذ کیاگیاان میں اجرت کا ضابطہ،صنعتی تعلقات کا ضابطہ،سوشل سیکیورٹی کوڈ اورپیشہ ورانہ حفاظت یعنی صحت اور کام کے حالات کا ضابطہ شامل ہے۔ مزدور تنظیموں کاکہناہے کہ ان قوانین میں مزدوروںکے بجائے کمپنیوں کے مفادات کا خیال رکھا گیا ہے۔ سی آئی ٹی یو، ایچ ایم ایس، اے آئی ٹی یو سی، ایس ای ڈبلیو اے اور ایل پی ایف سمیت دس مرکزی ٹریڈ یونینوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ نئے کوڈ مزدوروں کے ساتھ دھوکہ ہیں۔ ان سے کمپنیوں کو بلا وجہ اپنے ملازمین کو برطرف کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ اسی طرح فیکٹریوں میں خواتین کیلئے12گھنٹے کی شفٹوں میں کام کرنا اور خاص کر رات کی شفٹوں میں کام کرنا ان کی صحت اور ان کے سماجی تحفظ کیلئے ایک خطرناک بات ہے۔یونینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5برسوں میں کئی بار ملک گیر ہڑتالیں کی گئیںلیکن حکومت نے ان کا کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں کیا ۔ اب مزدوروں پر زبردستی قوانین مسلط کئے جا رہے ہیں جو ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button