بی جے پی اورکانگریس کی حکومتوں نے جموں وکشمیرمیں ہمیشہ دوہرا معیاراپنایا : انجینئر رشید

نئی دہلی: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن انجینئر عبدالرشید نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں بی جے پی اور کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی حکومتوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں احتجاج اور اختلاف رائے سے نمٹنے کے لئے ہمیشہ دوہرا معیاراختیار کیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انجینئر رشیدنے لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کے ساتھ نئی دہلی کی بات چیت اورجموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے رویے کا موازنہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ یہ خوش آئند ہے کہ مودی حکومت نے احتجاج کرنے والے طلباءکے ساتھ بات چیت کا انتخاب کیا اور سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کیا، لیکن کشمیر میں کبھی ایسا رویہ کیوں نہیں اپنایا گیا؟۔ انہوں نے بھدرواہ میں سویلین آٹو ڈرائیور عارف حسین کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر جتیندر سنگھ کو وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کی بجائے اپنے حلقے میں سوگوار خاندان سے ملنے جانا چاہیے تھا۔انہوںنے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں کی حکومتوں نے کشمیر میں 2010 اور 2016 کی احتجاجی تحریکوں کا جواب بات چیت کے بجائے طاقت سے دیا۔انجینئررشید نے ان ادوار کے دوران پیلٹ گن کے بڑے پیمانے پر استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں نوجوان کشمیریوں کی آنکھوں میں ایسی چوٹیں آئیں جن سے ان کی زندگیاں بدل گئیں۔انہوں نے کہاکہ لداخ کے لیے بات چیت اور کشمیر کے لیے پیلٹ ، یہ بھارت کا دوہرا معیار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہمختلف علاقوں میں مظاہرین سے نمٹنے کے لئے کیوں مختلف معیار اپنائے جارہے ہیں۔




