بھارت :بہار میں طلباءکے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال ریاستی دہشت گردی ہے : حزب اختلاف
نئی دہلی :
بھارتی ریاست بہار میں حزب اختلاف کے رہنماﺅں نے NEET پیپر لیک اسکینڈل کے خلاف طلباءکے پرامن احتجاج پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ پولیس نے ہزاروں مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ سیوان میں پولیس نے نہتے طلباءپر براہ راست فائرنگ کی جس سے کم از کم 3 طلباءگولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ۔ انہوںنے کہا کہ امتحانی پیپر لیک ہونے پر جوابدہی کا مطالبہ کرنے پر متعدد اضلاع میں سیکڑوں طلباءپر ظلم و ستم کیا گیا۔ انہوں نے اسے مودی حکومت کے تعلیمی نظام کی بڑی ناکامی قرار دیا۔حکام نے بتایاکہ پولیس نے احتجاج کے سلسلے میں 27 ایف آئی آر درج کی ہیں اور اب تک 93 طلباءکو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ 2000 سے زائد نامعلوم مظاہرین کو مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔حزب اختلاف کے رہنما نے کہاکہ امتحانی عمل میں شفافیت کے لیے احتجاج کرنے والے نوجوان مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صرف پٹنہ میں پولیس نے 268 نامزد افراد اور 2500 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کئے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کریک ڈاو¿ن کے دوران 100 سے زائد طلباءکو گرفتارکیا گیا جبکہ مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج، آنسو گیس اورگولیاں چلائی گئیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے مبصرین کاکہنا ہے کہ طلباءکے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال بھارت میں اختلاف رائے کو بزورطاقت دبانے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک حکومت جو اپنے ہی نوجوانوں کے خلاف AK-47استعمال کرتی ہے، امتحانی اصلاحات کرنے میں ناکام رہتی ہے، اور پرامن احتجاج کا جواب بڑے پیمانے پر گرفتاریوں سے دیتی ہے، ملک کو آمریت کی طرف دھکیل رہی ہے۔تیجسوی یادو نے کہاکہ طلباءدہشت گرد نہیں ہیں،وہ ایک بکھرے ہوئے نظام کا شکار ہیں جو ان کے مستقبل کو تاریک بنادیتا ہے، جبکہ اقتدار میں رہنے والے بدعنوانوں کو تحفظ دیتا ہے۔ اپوزیشن رہنمانے طلباءکے خلاف مقدمات کو فوری طور پر واپس لینے، تمام گرفتار افرادکو رہا کرنے اور پیپر لیک اور مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خونریزی اور گرفتاریوں نے بھارت کے تعلیمی اور جمہوری اداروں میں بڑھتے ہوئے بحران کو بے نقاب کیا ہے۔







