بھارت :منی پور مسلسل نسلی تشدد کی آگ میں جل رہا ہے
نئی دہلی: بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور مسلسل نسلی تشدد کی آگ میں جل رہا ہے اورمودی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وحشیانہ تشدد، آتش زنی کے واقعات اور روزانہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کرنے والی کوکی خواتین پر بھارتی فورسزنے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوں سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسلسل تشدد کے نتیجے میں 260 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ابھی کچھ دن پہلے ایک اور کوکی کسان کو بے رحمی سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ یہ علاقے میں اس طرح کا 15واں واقعہ ہے جبکہ آتش زنی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ تنازعے کے نتیجے میں 60ہزارسے زائد افراد بے گھر ہوئے، سیکڑوں دیہات اجڑ گئے اور خواتین کو ہولناک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس کے باوجود مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اپنے تعصب کی وجہ سے کچھ نہیں کررہی ہے،وہ میتی کے مسلح افراد کو بچارہی ہے جبکہ کوکی برادریوں کو منظم ظلم و ستم کانشانہ بنایاجارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ تین سال کی تباہی، جھوٹے وعدے اور وزیر اعظم کی شرمناک خاموشی ایک بات ثابت کرتی ہے کہ حکومت نے منی پور کے قبائلیوں کو ووٹ بینک کی سیاست کے بھینٹ چرھادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل خوف ودہشت، ہلاکتوں اور ناانصافی سے مودی انتظامیہ کی مکمل ناکامی اور اخلاقی دیوالیہ پن بے نقاب ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت منی پور میں نسل کشی کو نظر انداز کر رہی ہے۔منی پور مئی 2023 سے میتی اورکوکی قبائل کے درمیان نسلی تشددکا شکارہے۔ تشدد کے نتیجے میں اب تک 260 سے زائدافراد ہلاک اور تقریباً 60 ہزارلوگ بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ جھڑپوں، آتش زنی اور بم دھماکوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا جس سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہے۔





