مقبوضہ جموں و کشمیر

نگر وٹہ حملہ کیس: کشمیری نوجوان کی ضمانت کی درخواست مسترد

جموں: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے 2016 کے نگر وٹہ آرمی کیمپ حملہ کیس میں ایک کشمیری نوجوان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے الزامات کی سنگینی کو بنیاد بناتے ہوئے رہائی سے انکار کر دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں کی این آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج پریم ساگر نے سید منیر الحسن قادری کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔یاد رہے کہ یہ مقدمہ 29 نومبر 2016 کو نگر وٹہ کے بلیونی برج کے قریب بھارتی فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے سے متعلق ہے، جس میں سات بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔عدالت نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ استغاثہ کے 104 گواہوں میں سے اب تک صرف 42 کے بیانات قلم بند ہو ہے ہیں، جبکہ متعدد اہم گواہ ابھی عدالت میں پیش ہونے باقی ہیں۔ اس لیے اس مرحلے پر ضمانت کی گنجائش نہیں بنتی۔عدالت کا مزید کہاکہ زیر حراست مدت صرف اس کی بنیاد پر ضمانت نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر جب مقدمہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یواے پی اے کے تحت درج ہو۔ جج نے یہ بھی کہا کہ موجودہ مرحلے پر ملزم کی رہائی "بھارت کے وسیع تر مفاد” کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔خیال رہے کہ قادری پر الزام ہے کہ انہوں نے حملہ آوروں کو مقامی مدد فراہم کی، تاہم ان کے خاندان اور رشتے داروں کا کہنا ہے کہ انہیں جھوٹے الزامات میں پھنسایا گیا ہے۔ ابھی تک عدالت میں ان کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا۔اس فیصلے کے بعد قادری کے وکیل نے اعلی عدالت میں اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button