بھارتی ایجنسیوں، فوج اور پولیس کی طرف سے کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری

قابض حکام کی طرف سے پروفیسر کی برطرفی کے خلاف کشمیر یونیورسٹی کے طلبا کا احتجاج

Z
سرینگر14مئی (کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںبھارت کی بدنام زمانہ ایجنسیوں، فوجیوںاورپولیس نے پورے علاقے میں چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھیں جس سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کے تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے اہلکاروں نے پولیس اورپیراملٹری فورسز اہلکاروں کی مدد سے بارہمولہ، شوپیاں اور دیگر اضلاع کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔ اسی طرح ریاستی تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے نے جموں خطے میں کم از کم 10 مقامات پر چھاپے مارے جن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما محمد حسین خطیب کی رہائش گاہ اور بھدرواہ علاقے میں ان کے بیٹے ابو زرین کی دکان بھی شامل ہے۔ ان چھاپوں کے دوران بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے خواتین اور بچوں سمیت مکینوںکو ہراساں کیا اور موبائل فون، لیپ ٹاپ، الیکٹرانک آلات اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔
ادھر بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، بارہمولہ، بانڈی پورہ، شوپیاں اور دیگر علاقوں میں تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ فورسز اہلکاروں نے گزشتہ چند دنوں کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے اوران کی نظربندی کا جواز پیش کرنے کے لئے انہیں مجاہدین اور مجاہد تنظیموں کے معاونین قراردیا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں نے سرینگر میں اپنے بیانات میں مقبوضہ علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اضافے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کو حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی جائزجدوجہد سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کر سکتے۔
بھارتی حکام کی جانب سے کشمیر یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر الطاف حسین پنڈت کو برطرف کئے جانے کے خلاف یونیورسٹی کے طلبا نے احتجاج کیا۔ طلبا ء نے ہاتھوں میں پروفیسر کی تصاویر والے بینرزاٹھا رکھے تھے جن پر”کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے لیے یوم سیاہ ”کا نعرہ درج تھا اورحکام کے اس اقدام کی مذمت کی گئی تھی۔ مودی حکومت نے گزشتہ روزپروفیسر الطاف حسین پنڈت سمیت تین کشمیری سرکاری ملازمین کو تحریک حق خودارادیت کی حمایت کرنے پر برطرف کردیا۔
ادھر ضلع کولگام کے علاقے وائی کے پورہ میں مسلمان پڑوسیوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ایک مثالی مظاہرہ کرتے ہوئے ایک عمر رسیدہ پنڈت خاتون کی آخری رسومات ادا کردیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کشمیری پنڈت جمعرات کی شام بڈگام کے علاقے چاڈورہ میں اپنی برادری سے تعلق رکھنے والے رکن راہول بھٹ کے قتل کے خلاف پورے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں احتجاج کر رہے ہیں۔
جموں خطے میں رامبن کے علاقے بانہال میں ایک بھارتی فوجی نے اپنی سروس رائفل سے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ اس واقعے سے جنوری 2007 سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد 542ہو گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: