آسیہ اندرابی اورانکی ساتھیوں کی عمر قید کی سزا کے خلاف درخواست کی سماعت
دلی ہائی کورٹ نے این آئی اے سے جواب طلب کرلیا

نئی دلی:دہلی ہائی کورٹ نے کشمیری سیاسی رہنما آسیہ اندرابی اور ان کے دو ساتھیوں کی طرف سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون(یو اے پی اے)کے تحت اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف دائر اپیلوں پر بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے سے جواب طلب کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس پرتھبا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل ہائی کورٹ کے بنچ نے آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کی عمر قید کی سزا کے ٹرائل کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل پر این آئی اے کو نوٹس جاری کیا۔ بنچ نے خصوصی این آئی اے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کرنے میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا ۔ عدالت نے این آئی اے کو 15 ستمبر تک جواب دائر کرنے کی کا وقت دیا ہے جبکہ مقدمے کی سماعت 6اکتوبر کو دوبار ہ ہو گی۔دختران ملت کی بانی 62 سالہ آسیہ اندرابی، ان کی ساتھی ناہیدہ نسرین اور صوفی فہمیدہ، کو 14جنوری کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔24مارچ کو ٹرائل کورٹ نے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنائی جب کہ فہمیدہ اور نسرین کو 30 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ان تینوں پر فروری 2021میں کالے قانون یو اے پی اے اور تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت باقاعدہ الزام عائد کیا گیا تھا۔ این آئی اے نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کی تھی۔این آئی اے نے آسیہ اندرابی اور نکی ساتھیوں کے خلاف اپریل 2018میں بھارتی وزارت داخلہ کی ہدایت پر مقدمہ درج کیا تھا۔ این آئی اے نے الزام لگایا کہ دختران ملت "نفرت انگیز تقاریر”پھیلانے کے لئے میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کرتیا ہے اور کھلے عام جموں و کشمیر کی آزادی کی حامی ہے ۔آسیہ اندرابی کو بھارتی پولیس نے اپریل 2018میں اسلام آباد قصبے سے گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ نظربند ہیں۔







