سرینگر: بھارتی فورسز نے پی ڈی پی کو مشعل بردار جلوس نکالنے سے روک دیا
دفعہ 370 کی منسوخی کشمیریوں کے لیے ناقابل قبول ہے، محبوبہ مفتی

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے بھارت کی طرف سے 370 اور 35-اے دفعات کی منسوخی اور علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے آج سات برس مکمل ہونے پر سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا اور دھر نا دیا۔ پارٹی رہنماﺅں اور کارکنوں نے تنظیم کی سربراہ محبوبہ مفتی کی قیادت میں مشعل بردار جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم بھارتی فورسز نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پی ڈی پی کے رہنماﺅں سمیت بڑی تعداد میں کارکن سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر پر جمع ہوئے اور شہر کے مرکز لالچوک کی طرف مشعل بردار جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے مارچ کے شرکاءکو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جس کے بعد محبوبہ مفتی نے پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں اور کارکنوں کے ساتھ پارٹی دفتر کے باہر دھرنا دیا۔انہوں نے نے نعرے لگائے اور 370 اور 35A کی بحالی اور سیاسی نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ محبوبہ مفتی نے اس موقع پر کہا کہ پانچ اگست جموںوکشمیر کے لیے ایک سیاہ ترین دن ہے کیونکہ بھارت نے ایک گہری سازش کے تحت جموںوکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیا ۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں آئینی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے لڑنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ علاقے میں پابندیاں نافذ کی گئی ہیں جس سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں، جب نامعلوم افراد کی طرف سے کوئی حملہ ہوتا ہے تو ہزاروں لوگوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا جاتا ہے ،ہر حملے کے بعد بے گناہ لوگوں کو حراست میں لیا جاتا ہے، مکانات گرائے جاتے ہیں اور سرکاری ملازمین کو برطرف کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہزاروں لوگ جیلوں میں ہیں لیکن ان کے بارے میں نہیں بولتا۔” انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ کوئی بھی کشمیری دفعہ370 کے خاتمے کو قبول نہیں کرسکتا کیونکہ یہ ہماری شناخت، ہماری زمین اور ہماری ملازمتوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ہم اپنی آخری سانس تک اس کے لیے لڑتے رہیں گے۔





