مقبوضہ جموں و کشمیر
مقبوضہ کشمیر : میڈیکل کالجز کے غیر جریدہ ملازمین کا 18اگست سے ہڑتال اور دھرنے کا اعلان

مقبوضہ کشمیر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پانچ نئے قائم ہونے والے سرکاری میڈیکل کالجوں (جی ایم سی) کے 3ہزار سے زائد غیر جریدہ ملازمین نے اپنے مطالبات کے حوالے سے قابض بھارتی انتظامیہ کی بے حسی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 18 اگست سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال اور دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاج بارہمولہ، اسلام آباد، راجوری، ڈوڈہ اور کٹھوعہ اضلاع میں کیا جائے گا۔
ملازمین نے کہا کہ انہیں 20-2019 کے دوران سروسز سلیکشن بورڈ کے ذریعے منتخب کیا گیا تھا اور اس کے بعد متعلقہ میڈیکل کالجوں کے مجاز حکام نے ان کا تقرر کیا تھا۔ تاہم، سروس رولز کی تشکیل میں تاخیر کے باعث انکا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مناسب پروموشنل درجہ بندی کی عدم موجودگی کیوجہ سے سینئر کیڈرز کی ترقی بھی نہیںہو پا رہی ، مختلف سطحوں پر عملے کی کمی اور موجودہ اہلکاروں پر کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔
ملازمین نے بتایا کہ احتجاج کے دوران معمول کی او پی ڈی اور آئی پی ڈی خدمات بشمول وارڈ کی باقاعدہ سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ تاہم ہنگامی خدمات اور ہنگامی مریضوں کی دیکھ بھال جاری رہے گی۔





