ااقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ جیو پولیٹیکل حقائق کی عکاسی نہیں کرتا:اعزاز چوہدری
سابق پاکستانی سفارتکار کا اقوام متحدہ میں جامع اصلاحات پر زور

اسلام آباد : سابق پاکستانی سفارتکار اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ 2026 کے جیو پولیٹیکل حقائق کی عکاسی نہیں کرتا اوراس میں جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اعزاز چوہدری نے ایک میڈیا انٹرویو میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اور پاکستان کے موقفکے حوالے سے کہا کہ اقوام متحدہ کی رکنیت 193 ممالک تک بڑھنے کے باوجود 1965سے اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات پر بنیادی اختلاف منتخب غیر مستقل نشستوں میں اضافے کے خواہاں اور نئے مستقل ارکان کی شمولیت کی وکالت کرنے والے ممالک کے درمیان ہے۔اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان اتفاق رائے کے ایک متحدہ ماڈل کی حمایت کرتا ہے جو مستقل ارکان میں اضافے کے بجائے منتخب غیر مستقل نشستوں کو بڑھانے کے حق میں ہے۔
انہوں نے مستقل رکنیت کو غیر جمہوری قرار دیا اور دلیل دی کہ منتخب نشستوں میں اضافہ ان خطوں کو زیادہ مساوی نمائندگی فراہم کرے گا جن کی نمائندگی کم ہے، خاص طور پر افریقہ اور لاطینی امریکہ کو۔انہوںنے کہا کہ پاکستان نے بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان کی مستقل نشستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مزید مستقل ارکان شامل کرنے سے عالمی نظام میں طاقتور ممالک کو مزید استحقاق ملے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی بالخصوص تنازعہ جموں و کشمیر سے متعلق قراردادوں کی عدم تعمیل ایک اور وجہ ہے کہ پاکستان مستقل رکنیت کے لیے نئی دہلی کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتا۔اعزازچوہدری نے خبردار کیا کہ مستقل رکنیت اور ویٹو کے نظام میں توسیع سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مزید مفلوج ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سرد جنگ کے دوران دیکھے گئے تعطل کو یادکرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں ویٹو کے بڑھتے ہوئے استعمال نے پہلے ہی کونسل کی کارکردگی کو متاثرکیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی بامعنی اصلاحات میںسلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری اور موثر بنانا چاہیے جبکہ ان ریاستوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانا چاہیے جن کی اس وقت نمائندگی کم ہے۔اعزازچوہدری کا بیان پاکستان کے دیرینہ موقف کی توثیق ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میںاصلاحات کو مستقل طور پر مراعات یافتہ ریاستوں کا ایک اور درجہ بنانے کے بجائے منتخب نشستوں کے ذریعے وسیع تر علاقائی نمائندگی کو ترجیح دینی چاہیے۔





