APHC

بھارت کی ہٹ دھرمی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے سنگین خطرہ ہے: حریت کانفرنس

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارت کی ہٹ دھرمی اور اس کی جارحانہ پالیسی سے جنوبی ایشیا میں امن اور اقتصادی و سیاسی استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ پاکستان دنیا اور خطے میں امن کا داعیہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ کشمیر کے بنیادی مسئلے کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مظلوم کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے جنہوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر تلی ہوئی ہے، لیکن کشمیری اس کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گے۔حریت ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت بی جے پی رہنما درخشاں اندرابی کی زیر قیادت اپنے نام نہاد وقف بورڈ کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کشمیری اسلامی ثقافت کو ہندوتوا کے رنگ میںرنگنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخشاں اندرابی نے اسکول کی بچیوں کو استعمال کرتے ہوئے انہیں بھارتی یوم آزادی کی سرکاری تقریبات میں رقص کرانے پر مجبورکیا جو کشمیری ثقافت پر حملہ ہے اور مقبوضہ علاقے پرہندوتوا ثقافت مسلط کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی ثقافت کو مٹادیناہے۔ترجمان نے کہاجموں و کشمیر میں قبل از اسلام ہندو تہذیب کو زندہ کرکے ہندو بالادستی اور ہندو طرز زندگی مسلط کرنا بی جے پی اور آر ایس ایس کا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرکی مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اور 5 اگست 2019 کے بی جے پی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کی مسلم شناخت اور وقار کو چھیننا تھا۔ترجمان نے کہا کہ کشمیری ہر قیمت پر اپنی منفرد شناخت اور ثقافت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے مذموم ہتھکنڈے کشمیریوں کو حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی منصفانہ جدوجہد سے نہیں روک سکتے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button