لداخ :لہہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کابھارت کے تاخیری حربوں پر احتجاجی تحریک کاانتباہ
لداخ: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ میں لہہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے ان کے مطالبات پر تاخیری حربوں کا سلسلہ جاری رکھا تو بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ انتباہ لہہ میں لداخ کے نمائندوں اور بھارتی وزارتِ داخلہ کی ایک ٹیم کے درمیان اہم ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں مطالبات پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ اجلاس میں لہہ ایپکس باڈی کے رہنمائوں چیرنگ دورجے لکروک، سونم وانگچک اور دورجے اسٹینزن اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے نمائندوں اصغر علی کربلائی، سجاد کرگلی اور غلام رسول کے علاوہ لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ جان سمیت دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔رپورٹ کے مطابق دو گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں 22مئی کو طے پانے والے اصولی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ اس معاہدے میں لداخ کے لیے یونین ٹیریٹری کی سطح پر ایک منتخب ادارے کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا، جسے قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہونا تھے۔اگرچہ اجلاس کے بعد کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تاہم لہہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے بھارتی وزارتِ داخلہ کی ٹیم کو اپنے ناقابلِ مذاکرات مطالبات کی فہرست پیش کی۔انہوں نے واضح کیا کہ مزید تاخیر کی صورت میں وہ احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 22مئی کے اجلاس کی کارروائی میں طے شدہ نکات سے کسی بھی انحراف کی صورت میں جدوجہد کو مزید تیز کیا جائے گا۔






