حقائق کے منافی بیانات کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کرسکتے ، حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ

اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ نے بھارت میںامریکی سفیر سرجیو گور کی طرف سے جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے یکطرفہ اور حقائق کے منافی بیانات جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کوہرگز تبدیل نہیں کر سکتے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے کنوینر اور دیگر رہنمائوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے، جس کے مستقبل کا فیصلہ طاقت، قبضے یا کسی سفارتی بیان سے نہیں بلکہ خود کشمیری عوام کی آزادانہ خواہشات کے مطابق رائے شماری کے ذریعے ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر کا بیان خود امریکی صدر کے کشمیر پر کردار ادا کرنے کے بیانات کے بھی منافی ہے اور یہ کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کو نظرانداز کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی یا سفارتی بیانات تاریخ کے حقائق، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو تبدیل نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے باوجود جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہوئی۔
حریت قیادت نے کہا کہ کشمیر ،کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ بھارت کو طاقت کے ذریعے کشمیری عوام کی آواز دبانے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے بجائے کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حقِ خودارادیت دینا چاہیے۔
غلام محمد صفی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھیں گے ، مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔







