
ارشد میر
جموں و کشمیر کو بھارت کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ قرار دینا شاید نئی دہلی کے لیے ایک سیاسی نعرہ ہومگر تاریخ، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے ریکارڈ اور خود بھارتی قیادت کے تاریخی بیانات کے سامنے یہ نعرہ ایک ایسے سوال میں تبدیل ہوجاتا ہے جس سے بھارت آٹھ دہائیوں سے فرار اختیار کرتا چلا آرہا ہے کہ اگر کشمیر واقعی بھارت کا حصہ ہے تو پھر کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کا حق دینے کے وعدے، اقوام متحدہ کی قراردادیں، بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی، غیر معمولی فوجی تعیناتی، کالے قوانین، سیاسی پابندیاں اور 2019 میں ایک یکطرفہ آئینی اقدام کے ذریعے پورے سیاسی و آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
گزشتہ روز بھارت میں امریکی سفیر سرگیو گور کا مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنا اور اسے بھارت کا ’’اہم حصہ‘‘ قرار دینا اسی پرانے سوال کو ایک بار پھر پوری شدت سے سامنے لے آتا ہے۔ اس بیان پر پاکستان نے امریکی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا اور واضح کیا کہ کسی سفیر کا سیاسی بیان جموں و کشمیر کی بین الاقوامی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا۔ اسلام آباد نے بجا طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ ایسا مؤقف اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور کشمیر کے بارے میں امریکہ کے دیرینہ سفارتی مؤقف سے متصادم ہے۔
لیکن اس معاملے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ امریکی سفیر کے بیان کے فوراً بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ایک ایسا مؤقف اختیار کیا جو نئی دہلی کے سرکاری بیانیے سے متصادم ہے۔ عمر عبداللہ نے ’’حل طلب لیگیسی ایشوز‘‘ کا اعتراف کیا اور جموں و کشمیر کے لیے الگ قانونی و سیاسی حیثیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر براہِ راست سیاسی و سفارتی مشاورت کی بات کی۔ گویا جس مسئلے کو نئی دہلی مکمل طور پر حل شدہ داخلی معاملہ قرار دیتی ہے، اسی خطے کا منتخب وزیر اعلیٰ خود اس کے بنیادی سیاسی اور قانونی پہلوؤں کو ابھی حل طلب قرار دے رہا ہے۔
ماہرین قانون نے بھی واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے جس کی حتمی حیثیت کا تعین ابھی ہونا باقی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1948 سے 1957 تک متعدد قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر پر باقاعدہ غور کیا۔ قرارداد 47 سے لے کر بعد کی قراردادوں تک اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں کشمیری عوام کے مستقبل اور استصوابِ رائے کا سوال موجود ہے۔ اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان بھی اسی تنازع کے تناظر میں قائم ہوا اور آج تک موجود ہے۔
اگر کشمیر بھارت کا داخلی اور مکمل حل شدہ معاملہ ہے تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر پر اتنی قراردادیں کیوں منظور کیں؟ اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ آج تک کیوں موجود ہے؟ اور بھارت نے ان قراردادوں کی منظوری کے وقت ان کے وجود سے انکار کیوں نہیں کیا؟
یہاں ایک اور بنیادی حقیقت بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ کشمیر کا مسئلہ محض پاکستان کا پیش کردہ مقدمہ نہیں تھا بلکہ اس کے ابتدائی بین الاقوامی کردار میں بھارت خود شریک تھا۔ بھارتی قیادت نے عالمی برادری اور خود کشمیری عوام کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
جواہر لال نہرو کے متعدد خطوط اور بیانات اس تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے 29 جولائی 1951کو پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان کو خط لکھ کر واضح کیا کہ بھارت کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کے عہد کا پابند ہے اور بھارت جبری طور پر کسی خطے کو اپنے ساتھ رکھنے کا قائل نہیں۔ نہرو کے الفاظ میں یہ یقین دہانی بھی موجود تھی کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ محض بھارت یا پاکستان نہیں کرسکتے بلکہ کشمیری عوام کی رائے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
پھر ایسا کیا ہوا کہ وہی بھارت، جو کبھی کشمیریوں کی رائے کو اپنے مقدمے کا اخلاقی جواز سمجھتا تھا، آج اسی رائے کے ذکر کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتا ہے؟
اگر بھارت کا مؤقف یہ ہے کہ الحاق کے ساتھ ہی کشمیر کی حیثیت ہمیشہ کے لیے طے ہوگئی تھی تو پھر دفعہ 370 اور دفعہ 35-A کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ بھارتی آئین نے جموں و کشمیر کو ایک خصوصی آئینی حیثیت کیوں دی؟ بھارتی پارلیمان اور مرکزی حکومت کے اختیارات کو وہاں مختلف حدود میں کیوں رکھا گیا؟ ریاست کے لیے الگ آئینی و قانونی انتظام کیوں موجود رہا؟
اور پھر 5 اگست 2019 کو وہ سب کچھ یکطرفہ طور پر ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
مودی حکومت نے دفعہ 370 کے خصوصی آئینی انتظام کو ختم کیا، دفعہ 35-A سے وابستہ انتظامات کا خاتمہ کیا، جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو تبدیل کیا اور پورے خطے کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کردیا۔ اس کے بعد ساڑھے آٹھ سو سے زائد مرکزی قوانین اور انتظامی ضوابط کو مقبوضہ علاقے میں نافذ کیا گیا جو اس سے پہلے اپنی پوری تاریخ میں جموں و کشمیر میں نافذ نہ تھے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ 2019 کے بعد بھارتی قوانین کا دائرہ بڑے پیمانے پر وہاں پھیلایا گیا۔ بھارتی وزارتِ داخلہ نے خود پارلیمان میں بتایا کہ 31 اکتوبر 2019 کے بعد تمام مرکزی قوانین جموں و کشمیر پر لاگو ہوگئے اور موجودہ قوانین کو نئے آئینی ڈھانچے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تبدیلیاں کی گئیں۔ سوال ہے کہ اگر کشمیر ہمیشہ سے بھارت کے دوسرے حصوں کی طرح ایک عام ریاست تھا تو 2019 کے بعد اسے بھارت کے ’’عام قانونی اور انتظامی نظام‘‘ میں شامل کرنے کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر آئینی، قانونی اور انتظامی اقدامات کیوں کرنا پڑے؟یہ تضاد کم از کم اس دعوے کو تاریخی اور سیاسی بحث سے بالاتر ایک سادہ حقیقت کے طور پر قبول کرنے سے روکتا ہے۔
اور اگر یہ سب محض انتظامی اصلاحات تھیں تو پھر ان اصلاحات کے ساتھ سیاسی قیادت کی گرفتاریاں، مواصلاتی پابندیاں، سیاسی مکانیت کی معدومی، سخت سکیورٹی اقدامات، میڈیا پر قدغنیں اور شہری آزادیوں کو محدود کیوں کیا گیا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کشمیر کی زمینی حقیقت کو صرف سرکاری بیانات سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اگر ایک خطہ مکمل طور پر بھارت میں ضم ہوچکا ہے تو وہاں سیاسی اختلاف کو معمول کی جمہوری سرگرمی سمجھنے کے بجائے قومی سلامتی کا مسئلہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ کالے قوانین کے ذریعے طویل حراستیں کیوں ہوتی ہیں؟ سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے ماحول اتنا محدود کیوں ہے؟
خود سرگیو گور کے ملک کے محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق سے متعلق اپنی متعدد سالانہ رپورٹس میں جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ مقبوضہ علاقہ میں بھارتی مظالم کا تذکرہ اور بھارتی فورسز کے احتساب سے متعلق سوالات امریکی سرکاری ریکارڈ کا حصہ رہے ہیں۔ اسکی 2023 کی انسانی حقوق رپورٹ میں جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر دباؤ، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور آزادیٔ اظہار و نقل و حرکت سے متعلق متعدد مسائل درج کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق 2019 سے سیکڑوں افراد PSA کے تحت حراست میں رہے اور صحافیوں نے گرفتاریوں، چھاپوں، مقدمات اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی شکایات کیں۔
اسی طرح اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی 2018 کی رپورٹ میں مقبوضہ علاقے میں من مانی گرفتاریوں، حراست، طاقت کے وحشیانہ استعمال، آزادیٔ اظہار پر پابندیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں اور صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے کی نشاندہی کی ہے۔
پھر ایک اور سوال بھارت کے ’’اٹوٹ انگ‘‘ کے دعوے کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر کشمیر بھارت کا اتنا ہی معمول کا حصہ ہے جتنا دہلی، ممبئی یا بنگلورو، تو وہاں اتنی بڑی فوجی موجودگی کیوں درکار ہے؟
یہاں مسئلہ صرف فوجیوں کی تعداد نہیں بلکہ اس سیاسی حقیقت کا ہے کہ کسی خطے میں دہائیوں تک غیر معمولی فوجی موجودگی خود اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ وہاں ریاست اور عوام کے درمیان سیاسی تنازع موجود ہے۔ بھارت اسے سکیورٹی کا مسئلہ کہتا ہے جبکہ کشمیری اور پاکستان اسے جبری تسلط اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ جس مسئلے کو طاقت کے ذریعے دبانا پڑے، اسے محض ایک سرکاری اعلامیے یا سفارتی بیان کے ذریعے ’’حل شدہ‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
1947 کے بعد کشمیر میں مختلف سیاسی اور مزاحمتی تحریکوں کا مسلسل ابھرنا بھی اسی تاریخی بے چینی کی علامت ہے۔ اگر مسئلہ واقعی عوام کی مکمل رضامندی سے حل ہوچکا تھا تو پھر کئی دہائیوں تک سیاسی مزاحمت، عوامی احتجاج، بڑے پیمانے کی گرفتاریاں، قتل و غارت اور انسانی حقوق کے تنازعات کیوں جاری رہے؟
یہاں اخلاقی سوال سب سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ کسی سرزمین پر طاقت کے ذریعے انتظامی کنٹرول قائم کرلینا اور وہاں کے عوام کو سیاسی طور پر مطمئن کر دینا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ ریاست کی طاقت کسی علاقے پر حکمرانی کرسکتی ہے مگر صرف عوام کی رضامندی ہی اس حکمرانی کو اخلاقی جواز فراہم کرتی ہے۔
اسی لیے امریکی سفیر کا کشمیر کو بھارت کا ’’اہم حصہ‘‘ قرار دینا صرف ایک سفارتی لغزش نہیں بلکہ ایک ایسے تاریخی اور قانونی تنازع کو نظرانداز کرنے کے مترادف جرم ہے جس کا ریکارڈ اقوام متحدہ کی دستاویزات میں موجود ہے۔ مزید حیران کن امر یہ ہے کہ امریکی حکومت کے اپنے سابقہ بیانات اور انسانی حقوق کی رپورٹس کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
اگر امریکہ کشمیر میں ثالثی یا تنازع کے حل میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتا رہا ہے، اگر امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور کشمیر پر ثالثی کی بات کی ہے تو پھر ایک امریکی سفیر کا اچانک یہ کہنا کہ کشمیر بھارت کا ’’اہم حصہ‘‘ ہے، خود امریکی پالیسی میں ایک واضح تضاد پیدا کرتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں عمر عبداللہ کا بیان مزید اہم ہوجاتا ہے۔ وہ اسی مقبوضہ خطے کے نام نہاد وزیر اعلیٰ ہیں مگر وہ خود ’’حل طلب‘‘ مسائل اور ایک الگ قانونی و سیاسی حیثیت کی بات کررہے ہیں۔ اس سے کم از کم یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے اندر بھارتی پروردہ سیاسی خیمے میں بھی نئی دہلی کے اس دعوے کو مکمل قبولیت حاصل نہیں کہ 2019 کے بعد تمام سیاسی و آئینی سوال ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکے ہیں۔
لہٰذا سوال پھر وہی ہےاور اس کا جواب بھارت کو تاریخ، قانون اور اخلاق،تینوں میدانوں میں دینا ہوگاکہ
اگر کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو اقوام متحدہ کی قراردادیں کیوں؟
اگر کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو کشمیریوں سے حقِ خودارادیت کے وعدے کیوں؟
اگر کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین تعینات کیوں؟
اگر کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو دفعہ 370 اور 35-A کیوں؟
اگر کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو 2019 میں اس کی آئینی و ریاستی حیثیت بدلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اگر کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے سخت قوانین، وسیع سکیورٹی ڈھانچہ اور غیر معمولی فوجی موجودگی کیوں؟
اگر کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو خود مقبوضہ علاقے کی سیاسی قیادت آج بھی حل طلب سیاسی و قانونی مسائل کی بات کیوں کررہی ہے؟
اور سب سے بڑھ کر:
اگر کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کرنے سے خوف کس بات کا ہے؟
کشمیر کا مقدمہ کسی ایک سفیر کے بیان سے نہ پیدا ہوا ہے اور نہ ختم ہوگا۔ یہ مقدمہ تاریخ کے ان صفحات میں موجود ہے جہاں بھارت کے بانی رہنماؤں کے وعدے درج ہیں، اقوام متحدہ کے ان ریکارڈز میں موجود ہے جہاں سلامتی کونسل نے اس تنازع پر قراردادیں منظور کیں، انسانی حقوق کی ان رپورٹوں میں موجود ہے جہاں مقبوضہ علاقے میں حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی گئی،اور سب سے بڑھ کر کشمیری عوام کی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی جدوجہد میں موجود ہے۔
اس لیے کشمیر کو محض ایک ’’اندرونی معاملہ‘‘ کہہ دینا تاریخ کا فیصلہ نہیں بلکہ تاریخ سے فرار ہے۔
کسی سرزمین پر قبضہ اسے کسی ریاست کا حصہ نہیں بنا دیتا اور کسی عوام کی آواز کو خاموش کردینا ان کے حقِ خودارادیت کو ختم نہیں کرتا۔ کشمیر کا حتمی فیصلہ طاقت کے ایوانوں میں نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی تاریخ کا تقاضا، قانون کا تقاضا اور انصاف کا تقاضا ہے۔








