مضامین

بھارتی گیدڑ بھبھکیاں، فالس فلیگ کی آہٹ اور خواجہ آصف کا دوٹوک انتباہ

ارشد میر

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نےاپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا “تیز، متوازن اور فیصلہ کن” جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔راج ناتھ نےگذشتہ روز روائتی بھڑکوں کا سہارا لیتے ہوئے دہشت گردی کا وہی پرانا گساد پٹا راگ الاپ دیااور کہا کہ بھارت دہشتگردی کے خلاف کارروائی کے لے اپنی حکمت عملی پر قائم ہے، اپنی سلامتی کے معاملے مںا کسی قسم کی نرمی نہںآ برتے گااور اگر ضرورت پڑی تو سرحد پار اقدامات سے بھی گریز نہںض کان جائے گا۔ خواجہ آصف نے فورا انھیں آئینہ دکھاتے ہوئے ایکس پر ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ یہ بیان مایوسی کا عکاس ہے تاہم کسی قسم کی مہم جوئی کی بھارت کو پہلے سے زیادہ قیمت چکانا پرے گی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت گمراہ کن الزامات کی آڑ میں کشیدگی کو ہوا دیتا ہے تاکہ اسے مخصوص سیاسی مفادات حاصل ہو، تاریخی طور پر یہ واضح ہے کہ ناکام مہم جوئی کے ہمیشہ سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔وزیردفاع کا کہنا تھا کہ معرکہ حق ہماری یادوں میں آج بھی زندہ ہے اور آئندہ ہمارا رد عمل مزید مضبوط اور فیصلہ کن ہوگا، ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان امن اور علاقائی استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تیاری مکمل ہے اور راج ناتھ سنگھ کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصور بھی ناقابل فہم اور خطرناک نتائج کا حامل ہوگا، بھارت کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ وہ اپنی اسٹریٹیجک اور سفارتی دائرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا سامنا کرے۔

قابل ذکر ہے کہ راج ناتھ سنگھ کی اس گیدڑ بھبھکی سے دو رز پہلے کنٹرول لائن کے بٹل سیکٹر میں پاکستان کی مستعد فورسز نے بھارت کا ایک جاسوس ڈرون مارگرا یا جبکہ مقبوضہ جموں وکشمیر سے رپورٹس ہیں بھارت جنگی نوعیت کی تیاریاں کررہا ہے کئی شہروں میں الرٹ بھی جاری کردیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کی انٹلی جنس ایجنسیز نے بھارت کی جانب سے ایک ممکنہ فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں قید پاکستانی اور کشمیری شہریوں کو مختلف مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ انہیں کسی منظم منصوبے کے تحت استعمال کیا جا سکتا ہے۔

صرف ایک ہفتہ کے اندر سامنے آنے والے یہ واقعات بھارت کے خبث باطن اورخطے کی موجودہ کشیدگی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ پاکستان اس سے اچھی طرح واقف ہے اور پوری طرح تیار بھی کیونکہ وہ جانتا ہے مئی 2015 کی جنگ میں بھارت کو حاصل ہوئی ہزیمت کا درد اسے بہت ستا رہا ہے۔

بھارت کی تاریخ بھری پڑی ہے کہ جب بھی اس پرداخلی یا خارجی دباؤ میں اضافہ ہوا، اس نے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے اقدامات خصوصا فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیا جو نہ صرف اسکے مفروضوں پر مبنی سیاسی بیانیے کو تقویت دیتے ہیں بلکہ عوامی جذبات کو بھی مخصوص سمت میں موڑتے ہیں۔ 2019 میں پلوامہ حملہ ایک نمایاں مثال ہےجس کے بعد اس نے بغیر کسی شفاف بین الاقوامی تحقیقات کے فوری طور پر پاکستان پر الزام ہی عائد نہیں کیا بلکہ جارحیت بھی کی۔ وہ الگ بات ہے کہ اسکو لینے کے دینے پڑ گئے ، اسکے دو جنگی طیارے تباہ ہوئے اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کی ذلت بھی اٹھانا پڑی۔ تاہم محض الیکشن جیتنے کے لئے وہ ایک ایسی سنگین حرکت تھی جواگر پاکستان بردباری کا مظاہرہ نہ کرتا تو خطہ کو ایک بڑی جنگ کی لپٹ میں لے آتی۔

اسی طرح پہلگام واقعہ بھی انتہائی مشکوک تھا اور خود بھارت کے اپنے بعض اہم حلقوں نے اسے ایک منظم بیانیے کا حصہ قرار دیا۔ مودی سرکار نے 2019 کی جارحیت کے انجام سے سیکھنے کے بجائے پہلگام کے واقع کو بھی بہانہ بناکر مئی 2025 میں پاکستان پر جارحیت کی۔ اس کے جواب میں بھی بھارت کو 2019 سے بھی کئی گنا چکا نا پڑا۔ اسکے ایک SUV سمیت 7 جنگی طیارے مار گرائے گئے جن میں فرانس سے بڑے امیدوں کے ساتھ اربوں ڈالرز سےخریدے گئے اور’ شستر پوجاؤں’سے تیار کئے گئے جدید رفال طیارے بھی شامل تھے۔ یہی نہیں بلکہ کئی فضائی اڈوں، مواصلاتی مراکز اور روس سے خریدے گئے S-400 جدید دفاعی نظام کی چار میں سے تین بیٹریز بھی تباہ کردی گئیں۔ بھارت نے اس ہزیمت پر عوامی غیظ و غضب سے بچنے کے لئے آپریشن سندور جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اگرچہ اس نے اس کے تحت خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کو سنگین حد تک بڑھاوا دیا یہاں تک کی سکولی بچوں کو بھی نشانہ بنواکر اپنی شکست کی تکلف کو کم کرنے کی سفاکانہ کوشش کی مگر پاکستان کی طرف سے غضب للحق آپریشن کے تحت اسکی پراکسیز کے خلاف موثر اور تباہ کن کاروائیوں نے بھارت کی بے چینی اور مایوسی میں آضافہ کردیا ہے۔

بھارت ممکنہ طور پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر ہوئی جارحیت سے شہ پاکر یا دنیا کی توجہ اس جنگ کی طرف مبذول ہونے کا فائدہ اٹھاکر کوئی واردات کرنا چاہتا ہے تاکہ جنگ مئی کے زخموں کا کچھ ازالہ ہو اور ایران جنگ میں اسکی بدترین سفارتکاری ، تیل و گیس کے بحران اور مہنگائی سے اپنے عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ مگر راج ناتھ سنگھ کو جاننا چاہئے کہ بھارت نہ امریکہ ہے اور نہی ہی پاکستان ایران ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا کہ “ہماری تیاری مکمل ہے اور ردعمل تیز اور فیصلہ کن ہوگا” دراصل ایک دفاعی پالیسی کا اظہار ہے جو کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کے خلاف واضح پیغام دیتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک اشارہ ہے کہ پاکستان کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام کو برداشت نہیں کرے گا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے امن کی خواہش کا اعادہ کر کے ایک متوازن مؤقف بھی پیش کیاجو سفارتی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط بناتا ہے۔

اگر بھارت ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی خواہش رکھتا ہے تو اسے جان لینا چاہئے کہ اسکے پہلے سے بھی زیادہ سنگین تنائج ہونگے اور ان نتایج سے خود بھارت ہی متاثر ہوگا کیونکہ اب دنیا اسکی ان حرکتوں سے آگاہ ہوچکی ہے۔ ویسے بھی جنگ مئی کے بعد پاکستان کو اقوام کی برداری میں جو پذیرائی مل رہی ہے۔ خاص طور پر ایران جنگ میں بطور ثالث جو مرکزی حیثیت اسکو مل گئی وہ دنیا کے 190 ملکوں میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔خاص بات یہ ہے پاکستان ان ممالک کا بھی منظور نظر ہے جو آپس میں مخالف و مخاصم ہیں۔ امریکی صدر پاکستان کی قیادت کے گیت گاتا ہے تو ایرانی پارلیمنٹ سے لیکر سڑکوں پر پاکستان تشکر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔دنیا کے دیگر ممالک بھی پاکستان کی طرف امید کی گاہوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ کوئی تصفیہ کراےگا تو ان کی معیشت پر آیا ہوا شدید دباؤ ختم ہوگا۔ ویسے فوج سے لیکر بیوروکریسی تک بہت سے بھارتی ہیں جو جانتے ہیں پاکستان کے ساتھ پنگا نہیں لیا جاسکتا خاص طور پر ایسے موقع پر جب وہ دفاع کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر تاریخ کی مضبوط ترین پوزیشن پر آچکا ہے۔ لیکن اسکے باوجود اگر مودی، امیت شاہ اور راج ناتھ جیسے لوگ اپنے گمراہ کن اور فسطائی بیانیہ کے ہاتھوں مجبور ہوکر کچھ کرنے میں اپنی مجبوری سمجھ رہے ہوں تو انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی پہلے سے زیادہ بڑی ذلت اور عالمی برادری کی تھوتکار اس نقصان سے زیادہ ہوگی جو اپنے عوام کی ناراضی اورانتخابی ناکامیوں کی صورت میں وہ دیکھ رہے ہیں۔ان کا کوئی بھی جارحانہ اقدام نہ صرف علاقائی امن کو تباہ کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل کا باعث بنے گا۔ خاص طور پر اس وقت جب دنیا پہلے ہی مختلف تنازعات اور جنگوں کی زد میں ہے، جنوبی ایشیا میں کسی نئے بحران کا آغاز عالمی استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر ایسے بیانیے کیوں جنم لیتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ داخلی سیاسی دباؤ ہوتا ہے۔ جب حکومتیں معاشی، سماجی یا سیاسی محاذ پر مشکلات کا شکار ہوتی ہیں تو وہ بعض اوقات بیرونی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔ اس کے علاوہ سفارتی ناکامیوں کو چھپانے اور بین الاقوامی سطح پر ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ بھارت ہمیشہ سے یہی کرتا چلا آرہا ہے ، اس نے اسے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔تاہم اس طرز عمل کے نقصانات کہیں زیادہ ہیں۔ اسکا بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ اس سے اعتماد کی فضا مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے، واپسی کی سیاسی راہ بھی مسدود ہوجاتی ہے اور ناکامی کی صورت میں مہم جوئی کرنے ولااپنی پہلی والی پوزیشن بھی کھو دیتا ہے۔

کشمیر کا مسئلہ اس پوری صورتحال کا مرکزی نکتہ ہے۔ جب تک اس مسئلے کو منصفانہ اور پائیدار طریقے سے حل نہیں کیا جاتا، خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی۔ بدقسمتی سے ماضی میں کیے گئے اقدامات نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے حل کے لیے ضروری ہے کہ بھارت نئی شیطانی حرکتوں کے بارے میں سوچنے کے بجائے تاریخی و زمینی حقائق کا ادراک کرے، جان لے کہ 78 برسوں میں تام تر کوششوں کے باوجود وہ نہ کشمیریوں کو فتح کرسکا ہے نہ پاکستان کو زیر کرسکا ۔ چنانچہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور مکالمے کی راہ اپناتے ہوئے مسلہ کشمیر سے نکلنے کے لئے پاکستان سے فیس سیونگ کے لئے معاونت طلب کرے۔عالمی برادری کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف ایسے خدشات کا نوٹس لیں بلکہ شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اس کے علاوہ بڑی طاقتوں کو بھی چاہیے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے واضح ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہی وہ توازن ہے جو کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہوتا ہے۔ خواجہ آصف کا بیان بھی اسی پالیسی کی عکاسی کرتا ہےجس میں امن کی خواہش اور دفاعی تیاری دونوں کو یکجا کیا گیا ہے۔اگر مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات، سرحدی کشیدگی اور سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ کسی بھی وقت ایک بڑے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔جنوبی ایشیا کا مستقبل امن، تعاون اور باہمی احترام سے وابستہ ہے۔ اگر اس خطے کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو الزام تراشی، اشتعال انگیزی اور مبینہ فالس فلیگ حکمت عملیوں کو ترک کرنا ہوگا اور نزاع کا باعث بنے تنازعات لو میرٹ پر حل کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، یہ خطہ ہمیشہ ایک ایسے عدم استحکام کا شکار رہے گا جہاں ہر نئی صبح ایک نئے بحران کے خدشے کے ساتھ طلوع ہوگی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button