مضامین

تعلیمی مافیا، طلبہ تحریک اور حکومتی جبر

دہلی مودی راج کا نوحہ لکھ رہا ہے

ارشد میر

مہان جمہوریہ ہونے کا خودساختہ دعویدار ملک ، بھارت آج اپنے ہی منہ سے جمہورت کی الٹیاں کررہا ہے۔ شرمناک جمہوریہ کا دارالحکومت دہلی، جہاں پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے ہزاروں اہلکارحکومتی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے تعلیمی نقصان اٹھانے کے بعد احتجاج پر مجبور ہوئے طلبہ پر اشک آور گیس، لاٹھیاں اور یہاں تک کہ گولیاں برساتے، پکڑ پکڑ کر قید خانوں کی جانب لے جاتے اور طالبات کا جنسی انداز میں تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں، ایک ایسا منظر پیش کررہا ہے جو انسانی حقوق کو مقدم رکھنے والی کسی نیم جمہوریہ کا رادالحکومت بھی نہیں ہوسکتا۔ مقامی و عالمی مبصرین کے مطابق طلبہ تحریک بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو درپیش بڑے عوامی چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے اور یہ اب بھارت کے تمام بڑے شہروں تک پھیل گئی ہے۔ احتجاجی طلبہ جہاں پہلے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے حکومتی جارحیت کے بعد اب وہ وزیر اعظم مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں۔
یہ تحریک مئی 2026 میں سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔ طلبہ تحریک کی بنیادی وجہ حالیہ امتحانی اسکینڈلز ہیں جن کی وجہ سے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے ہوئےہیں۔ گزشتہ ماہ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل امیدواروں کو امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان دینا پڑا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلباءکے آن لائن مارکنگ سسٹم پر بھی تنازعہ سامنے آیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں روزگار کے محدود مواقع اور بار بار سامنے آنے والے امتحانی تنازعات نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی اہم وجوہات بن رہے ہیں۔
مودی سرکار کی ناقص، متعصبانہ اور متکبرانہ حکمت عملی نے ملک کو ایک میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مظلوم عوام، خاص طور پر نوجوان اور تعلیم کے میدان میں سرگرم طلبہ، اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ ایک جمہوریت کے لیے افسوسناک اور شرمناک ہے۔
الجزیرہ کے مطابق دہلی پولیس کی وحشیانہ کارروائیوں میں کم از کم 180 افراد زخمی ہو گئے ۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق احتجاج میں شامل 60 سے زائد افراد کو گرفتار کیا اور دہلی کے 2 اسپتالوں میں 100 سے زائد زخمی افراد کو لایا گیا۔ بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی نوجوانوں کے احتجاج کے دوران بھارتی پولیس کی سفاکیت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ ایک سنگین انتباہ ہے کہ مودی سرکار کا رویہ کس قدر ظالمانہ اور غیر انسانی ہو چکا ہے۔ یہ کارروائیاں نہ صرف طلبہ کے پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے کی گئیں بلکہ ایک منظم سازش کا حصہ بھی ہیں تاکہ عوامی آواز کو خاموش کیا جا سکے۔ یہ اقدام جمہوریت کے ماتھے پر بدنما دھبہ ہے کیونکہ ایک جمہوریت میں احتجاج اور رائے کا اظہار آئینی حق ہوتا ہے جسے طاقت کے ذریعے دبانا غیر جمہوری اور غیر اخلاقی فعل خیال کیا جاتا ہے۔


راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں پر تشدد اور ان کی گرفتاریاں، ایک اور انتہا ہےجو مودی سرکار کی آمریت اور سیاسی انتقام کا ثبوت ہے۔ یہ حزب اختلاف کو خوفزدہ اور اسکی آواز کو دبانےکی ایک مذموم کوشش ہے۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ مودی سرکار کے پاس عوامی حمایت کمزور ہو چکی ہے اور اسے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ امتحانی اسکینڈلز، تعلیمی نظام کی بدانتظامی، کرپشن، بے ضابطگیوں اور بے روزگاری کے بحران نے نوجوانوں اور والدین کی چیخیں نکال دی ہیں اور حکومت ان مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے صرف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ بھارت میں تعلیم اب اربوں ڈالز کا کالا دھندہ بن چکی ہے۔ IMARC گروپ کے مطابق بھارت کی کوچنگ انسٹی ٹیوٹس مارکیٹ کا حجم 2025 میں تقریباً 7.2 ارب امریکی ڈالر تھاجو 2034 تک تقریباً 17.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔اگر آن لائن، آف لائن، مقابلہ جاتی امتحانات، اسکول سپورٹ اور پروفیشنل کوچنگ سمیت وسیع تر کوچنگ مارکیٹ کو دیکھا جائے تو بعض مارکیٹ ریسرچ ادار وں کے مطابق اس کا حجم 2025 میں تقریباً 23 ارب امریکی ڈالر تھا جو اب مزید بڑھ چکا ہے۔ راجستھان کے شہر کوٹا میں بہت بڑی کوچنگ انڈسٹری قائم ہے۔ ایک ایک کوچنگ سنٹر باقاعدہ یونیورسٹیز سے کئی گنا زیادہ کماتا ہے۔ ان کی دیگر شہروں میں بھی شاخیں قائم ہیں۔ طلبہ اور ان کے والدین کا استحصال کرنے والی اس کوچنگ انڈسٹری پر ایک دستاویزی فلم "Kota Factory” بھی بنی ہے جو Netflix پر چلی اور جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح یہ انڈسٹری طلبا ء کو بڑے بننے کے خواب بیچتی ہے، کس طرح اس خواب فروشی نے سماجی حیثیت کی برتری میں مقابلہ کا ماحول پیدا کردیا اور کس طرح طلبا یہاں تک کہ ان کے والدین بھی اس مقابلہ، امتحانی دباؤ، خواب کی تکمیل اور مالی تندنگدستی کے درمیان پھنس کر بد حال ہوجاتے ہیں۔
بھارتی حکومت اور گودی میڈیا پاکستان کو طعنے دیتے نہیں تھکتے تھے کہ بھارت پیشہ ور نواجون تیار کررہا ہے ، ان کی امریکی اور یورپی یونیورسٹیز اور اداروں میں مانگ ہے اور بڑی بڑی ٹیک کمپنیز کے سربراہان بھارتی ہیں۔مگر کچھ ہی عرصہ پہلے اس کی اصلیت کا بھی اسوقت بھانڈا پھوٹا جب جون 2026 میں متعدد بھارتی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا کہ بھارت میں 28 جامعات سے منسلک ایک جعلی ڈگری نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہےجہاں سے تقریباً ایک لاکھ جعلی ڈگریاں اور اسناد برآمد کی گئیں۔ تحقیقات میں یہ بھی بطور خاص انکشاف ہوا کہ ان میں سے بہت سی جعلی ڈگریاں امریکیH-1B اور EB-1C ورک ویزا درخواستوں میں استعمال کی گئیں۔ EB-1C دراصل ایک امیگرنٹ روزگار پر مبنی ویزا ہےجو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سینئر منیجرز اور ایگزیکٹوز کے لیے ہوتا ہے۔ اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد گرفتاریاں بھی عملائیں۔ اس پہلے مئی میں امریکی Immigration and Customs Enforcement ((ICE نے انکشاف کیا کہ تقریباً دس ہزار غیر ملکی طلبہ، جن میں اکثریت بھارتی طلبہ کی تھی، F-1 اسٹوڈنٹ ویزا کے Optional Practical Training (OPT) پروگرام کے غلط استعمال کے شبہہ میں زیرِ تفتیش ہیں۔ تحقیقات کے مطابق بعض طلبہ کاغذی یا شیل کمپنیوں میں ملازمت ظاہر کر رہے تھے جبکہ ان کمپنیوں کا انتظام بھارت سے کیا جا رہا تھاجو امریکی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ گزشتہ سال بھارت میں جعلی اسناد تیارکرنے والی ایک اوورسیز ایجوکیشن کنسلٹنسی کے سربراہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اسکی جعلی اسناد کے حامل متعدد طلبا نے امریکہ اور دیگر ممالک کے ویزے حاصل کئے تھے۔ ان میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم کو امریکہ سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔
اہم بات یہ ہے کہ کوچنگ انڈسٹری سے لیکر جعلی اسناد تیارکرنے والی اوورسیز ایجوکیشن کنسلٹنسیز تک سبھی حکومت کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہیں۔ بلکہ ذرایع کے مطابق بھارتی وزراء، سیاستدان اور افسران بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے اور اربوں کماتے ہیں۔ 22 لاکھ میڈیکل امیدواروں کو امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان دینے پڑنے کے پیچھے بھی یہی ہاتھ کارفرما ہے یہی وجہ ہے کہ طلباء نے وزیر تعلم کا استعفیٰ طلب کیا اور مودی سرکار نے مذکورہ وزیر سے استعفیٰ طلب کرنے کے بجائے طلباء کو کچلنے کے لئے ریاستی قوت کا استعمال کیا۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے بھی تباہ کن ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور آزاد خیال نوجوان جو ریاست کی زیادتی پراپنی آواز بلند کرتا ہے، کوریاستی جبر کا نشانہ بنانا اور اسے جیلوں میں ڈالنا، ایک غاصب اور ظالم حکومت کی نشانی ہےجو اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق سے غافل ہے۔
مودی سرکار حد درجہ ڈھٹائی کے ساتھ خود کو جمہوریت کا علمبردار کہلاتی ہےلیکن اسکا ایک ایک عمل جمہورت کش ہے۔ اس کا رویہ، اس کی دھونس، اقلیت کش پالیسیاں، نسل پرستی، اپنے شریر نظریہ کے لئے ریاستی قوت کا بے مہار استعمال، یہ سب ننگی فسطائیت کے عناصر ہیں۔ یہ حکومت خود ساختہ مہان جمہوریت کے دارالحکومت میں ایک غاصب کی مانند عمل پیرا ہے جو اپنے فسطائی مفادات کے لیے ہر حد پار کر سکتی ہے۔ مگر یہ فسطائیت اب اپنی شدتِ عملی کے ردعمل سے گزرنے لگی ہے۔ چیف جسٹس کے طنزیہ جملے پہ بننے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے حیقت کا روپ دھار لیا ہے اور اب یہ صرف طلبہ کی ہی نہیں بلکہ سماج کے حساس حلقوں کی تحریک بھی بن گئی ہے۔ اس میں اب عملی ، یا زبانی کئی شاعر، ادیب، اساتذہ، اداکار، گلوکار یہاں تک کہ سابق و حاضر سروس فوجی افسران بھی شمال ہوئے ہیں۔
یہ یقینا ایک عوامی بغاوت ہے جو حکومت کے ظالمانہ رویے کے خلاف اپنی نفرت اور غصہ کا اظہار کر رہی ہے۔ نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی، پرکاش راج، انوراگ کشیپ، سوناکشی سنہا، پریتی زنٹا، پوجا بھٹ، سوارا بھاسکر، سونو سود، رتیش دیشمکھ ،جینیلیا دیشمکھ، دلجیت دوسانجھ، ہما قریشی، سوہا علی خان، رچا چڈھا، بھومی پاڈنیکر جیسے اداکاروں، گلو کاروں اور فلم ساز وں کا اس تحریک میں شامل ہونا اور جابرحکومت کے خلاف آواز بلند کرنا، بھارت میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔ اور تو اور سابق فوجی و موجودہ افسروں اور دفاعی حلقوں کی طرف سے مظاہرین کے حق میں حمایت، ایک اور انوکھا منظر ہے۔ ریٹائرڈ کرنل آر کے شرما کی احتجاج میں شرکت کو سابق فوجیوں کے ایک حلقے کی جانب سے سراہا گیا۔ وامشی نامی ایک اور فوجی افسر نے اپنے ساتھی فوجیوں اور کورس میٹس سے اپیل کی کہ وہ طلبہ تحریک کی حمایت کریں۔ فوجی افسران کی طلبہ تحریک کی حمایت نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسے ریاستی و حکومتی ڈھانچے میں اختلافات کی علامات اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بعض حصوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی قرار دیا جارہا ہے۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ مودی سرکار نے اپنے فسطائی نظریات اور سیاسی مفادات کے حصول کے لئے جس طرح اپنی فوج کو 2019 اور 2025 میں پاکستان کے ساتھ لڑواکر اسکے دامن میں شکست، نقصانات اور ذلت ڈلوادی، بھارتی فوج میں اس کو محسو س کیا جارہا ہے۔
اس تحریک کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ اب بھارت تک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک تک پھیل گئی ہے۔لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے، جبکہ اسی نوعیت کے مظاہرے مانچسٹر، گلاسگو اور ایڈنبرا میں بھی منعقد کیے گئے۔یہ مظاہرے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آج کا بھارت ایک مقفل اور جبر کا شکار ملک ہے جہاں آزادی اور جمہوریت کی موت ہو چکی ہے۔آج بھارت میں نام کی جمہوریت کا بھی جنازہ نکل رہا ہے۔ دارالحکومت دھلی اور بھارت کے دیگر بڑے شہرمودی سرکار کا نوحہ لکھ رہے ہیں۔ اور مودی سرکار اپنے رویہ اور ترجیحات سے ثابت کرتی ہے کہ وہ اس تاریکی کی امین ہے جس میں ایک مغرور اور فسطائی حکومت ملک کی بنیادی قدروں کو دیکھنے کے قابل نہیں رہتی۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو تاریخ کے سیاہ صفحات پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button