
پنجاب اور دنیا بھر میں موجود سکھ برادری اپنے مقدس ترین مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل امرتسر پر بھارتی افواج کے حملے کے خلاف اور ہزاروں سکھوں کے قتل عام کی یاد میں 42ویں برسی منا رہی ہے۔ سکھ تنظیمیں اور کارکنان اس عہد کی تجدید کر رہے ہیں کہ وہ خالصتان کے قیام اور سکھ قوم کے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
جون 1984 میں بھارتی حکومت نے "آپریشن بلیو اسٹار” کے نام سے گولڈن ٹیمپل پر سکھ کش فوجی کارروائی شروع کی تھی جس کے دوران ٹینکوں، بھاری ہتھیاروں اور فوجی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ 2 سے 10 جون تک جاری رہنے والی اس سفاکانہ کارروائی میں ہزاروں سکھ مارے گئے جبکہ سکھ مذہب کے مقدس ترین مقام کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس کارروائی میں معروف سکھ رہنماء سنت جرنیل سنگھ بھندراولہ بھی مارے گئے، جنہیں آج بھی بڑی تعداد میں سکھ اپنے حقوق اور شناخت کے محافظ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔سکھ رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن اس واقعے کو سکھ قوم کا "گھلوگھارا” (نسل کشی) قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپریشن بلیو اسٹار نے سکھ برادری کے اجتماعی شعور پر گہرے زخم چھوڑے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال جون میں اس سانحے کی یاد خالصتان کے مطالبے اور بھارت میں سکھوں کے سیاسی، مذہبی اور قومی حقوق کی جدوجہد کو نئی تقویت دیتی ہے۔
جون 1984 کی گرمی صرف موسم کی حد تک نہیں تھی، بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاست بھی ایک غیر معمولی شدت اور کشیدگی کی لپیٹ میں آچکی تھی۔ اسی ماحول میں ایک ایسا خونریز واقعہ رونما ہوا جس نے نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں سکھ برادری کی اجتماعی یادداشت کو ہمیشہ کیلئے بدل کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ آپریشن بلیو اسٹار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ایک ایسی فوجی کارروائی جو پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع سکھوں کے مقدس ترین مذہبی مقام” گولڈن ٹیمپل کمپلیکس”میں کی گئی۔یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا تاریخی سانحہ تھا جس نے مذہب، سیاست، ریاستی طاقت اور شناخت کے درمیان تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ اثرات آج بھی سکھ برادری کی اجتماعی سوچ، سیاسی رویوں اور تاریخی یادداشت میں محفوظ ہیں۔
1970 اور 1980 کی دہائیوں میں شورش زدہ بھارتی پنجاب سیاسی بے چینی اور سماجی تبدیلیوں کا مرکز بن چکا تھا۔ سکھ برادری کے اندر ایک ایسا احساس پروان چڑھ رہا تھا کہ ان کی مذہبی شناخت، ثقافتی ورثہ اور سیاسی حقوق بھارتی نظام ریاست میں مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔اسی احساس کے نتیجے میں مختلف سیاسی اور مذہبی تحریکیں ابھرنے لگیں، جن میں خود مختاری اور حقوق کے مطالبات نمایاں تھے۔ سنت جرنیل سنگھ بھندرانوالے سکھ قوم میں ایک ابھرتی ہوئی اور بااثر شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ان کے حامی انہیں سکھ حقوق اور ان کی شناخت کی علامت سمجھتے تھے۔صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب پنجاب کے شہر امرتسر کے گولڈن ٹیمپل کمپلیکس کا بھارتی افواج نے ٹینکوں اور بھاری ہتھیاروں سے محاصرہ کیا، اور پھر تاریخ نے سکھوں کے ایسے قتل عام کا مشاہدہ کیا ،جس سے مہذب معاشروں میں بھلانا ممکن نہیں ہے۔
جون 1984 میں بھارتی حکومت نے ایک بڑے فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا جسے “آپریشن بلیو اسٹار” کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کا ہدف امرتسر میں موجود گولڈن ٹیمپل کمپلیکس تھا۔یہ کارروائی محض چند گھنٹوں تک محدود نہیں رہی بلکہ کئی دنوں تک یہ آپریشن جاری رہا۔ اس دوران بھارتی افواج نے کمپلیکس تک رسائی کیلئے بھاری عسکری وسائل کا استعمال کیا، جن میں جدید ہتھیار، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر فوجی سازوسامان شامل تھے۔بھارتی حکومت کے اس آپریشن کے طریقہ کار اور اس کے اثرات پر آج تک شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔گولڈن ٹیمپل سکھ مذہب کا سب سے مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے، جہاں روزانہ ہزاروں عقیدت مند عبادت کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ اس مقام پر بھارتی فوجی کارروائی نے نہ صرف عمارتوں کو نقصان پہنچایا بلکہ سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو بھی بری طرح متاثر کیا۔
اکال تخت سمیت کمپلیکس کے مختلف حصے مکمل طور پر تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔ سکھ برادری کیلئے یہ صرف ایک جسمانی نقصان نہیں تھا بلکہ ایک روحانی اور تاریخی صدمہ بھی تھا جس نے ان کی اجتماعی یادداشت میں گہرے نقوش چھوڑے۔یہی وجہ ہے کہ سکھ حلقوں میں اس سانحہ کو محض ایک فوجی آپریشن کے طور پر نہیں بلکہ ایک مذہبی سانحے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔اس آپریشن کے دوران سنت جرنیل سنگھ بھندرانوالے کی موت ایک اہم اور علامتی واقعہ بن گئی۔ وہ اس وقت اس تحریک کا سب سے نمایاں چہرہ تھے۔طویل عرصہ گزرنے کے باوجودان کے حامی انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں جنہوں نے سکھ برادری کے حقوق، شناخت اور مذہبی اقدار کیلئے آواز بلند اور اپنی جان بھی قربان کرکے ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے۔ یقینا سکھ قوم کے نزدیک سنت جرنیل سنگھ بھندرانوالہ ایک مزاحمتی علامت ہیں۔سکھ آپریشن بلیو سٹار کو بھولے نہیں ہیں۔
سکھ تنظیمیں آپریشن بلیو سٹار میں ہزاروں سکھوں کی اموات کیلئے بھارتی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔ اسی طرح مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس واقعے کے اثرات پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔آپریشن بلیو اسٹار کے چند ماہ بعد ہی ایک اور بڑا واقعہ رونما ہوا ، جب اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو اس کے سکھ بارڈ گارڈز نے گولیاں مار ہلاک کر دیا ۔ اندراگاندھی کی ہلاکت کے بعد بھارت کے مختلف حصوں خصوصاً دارلحکومت نئی دہلی کی سڑکوں پر سکھوں کے قتل عام کا ننگا ناچ کرکے بھارتی جمہوریت کی مٹی پلید کی گئی۔ان سکھ کش فسادات میں ہزاروں افراد کے قتل عام کے الزامات سامنے آئے، اور یہ واقعات سکھ برادری کیلئے ایک اور گہرے زخم کی صورت میں موجود ہیں۔
یہ دونوں واقعات،آپریشن بلیو اسٹار اور 1984 کے سکھ کش فسادات ایک دوسرے سے جڑ ے ایک ایسے سیاہ دور کی یاد دلاتے ہیں جنہیں کسی صورت سکھ قوم کے حافظے سے کھرچا نہیں جاسکتا۔آپریشن بلیو اسٹار کے بعد سکھ سیاست میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ بعض حلقوں کے مطابق انہی خونچکاں واقعات نے علیحدگی پسند بیانیے، خصوصاً خالصتان تحریک کو تقویت پہنچائی ہے۔جو آج پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔خالصتان تحریک کی سرکردہ تنظیم سکھز فار جسٹس بھارت کی ریشہ دوانیوں اور رکاوٹوں کے باوجود یورپ اور براعظم امریکہ میں خالصتان کے حصول کیلئے درجنوں بار ریفرنڈم کا انعقاد کرچکی ہے،جن میں لاکھوں سکھ مرد و خواتین خالصتان کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرچکے ہیں۔ کچھ تجزیہ کار اسے سیاسی ردعمل قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض دیگر اسے پہلے سے موجود علیحدگی رجحانات کا تسلسل سمجھتے ہیں۔جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ 1984 کے خونین واقعات نے سکھ برادری اور بھارتی ریاست کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا اور اس خلیج کو پاٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔
دنیا بھر میں موجود سکھ برادری، خاص طور پر کینیڈا، برطانیہ،اسٹریلیا اور امریکہ میں آپریشن بلیو اسٹار کو اپنی اجتماعی شناخت پر دانستہ حملہ سمجھتی ہے۔ہر سال جون میں اس واقعے کے خلاف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جن میں انصاف، یادداشت اور مذہبی آزادی کے مطالبات نمایاں ہوتے ہیں۔بیرون ممالک مقیم سکھ کمیونٹی اس واقعے کو اپنی تاریخی جدوجہد اور شناخت کے تناظر میں دیکھتی ہے۔آپریشن بلیو اسٹار ایک ایسا زخم ہے جو آج بھی موجود اور اسے خون رس رہا ہے۔آپریشن بلیو اسٹار صرف 1984 کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی سانحہ ہے جس نے خطے کی سیاست، مذہبی تعلقات اور سماجی سوچ کو ہمیشہ کیلئے متاثر کیا۔بیالیس برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ سوال آج بھی برقرار ہے کہ آیا اس آپریشن کو کسی اور طریقے سے ٹالا جا سکتا تھا یا نہیں۔یہ سانحہ آج بھی مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔سکھ قوم کیلئے یہ مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر ایک گہرا زخم ہے، جو شاید برسوں بھی مندمل نہ ہوسکے۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ آپریشن بلیو اسٹار تاریخ میں صرف ایک سیاہ باب نہیں، بلکہ ایک مسلسل جاری بحث بن چکا ہے۔







