
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ برسوں کے دوران تعلقات میں ایک نیا باب کھلا ہے، جس میں کئی اہم شعبوں میں مشترکہ تعاون اور ترقی کی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔ سال 2023 میں بنگلہ دیش میں بھارت نواز حسینہ واجد حکومت کے خلاف طلبہ کی اثر پذیر تحریک کے نتیجے میں 05اگست2024میں حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد بڑی تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں اور پیشرفت نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے سنگ میل کی امید دلائی ہے، خصوصا دو دہائیوں بعد نواں جوائنٹ اکنامک کمیشن (JEC) کا اجلاس جو کہ ڈھاکہ میں منعقد ہوا۔ مذکورہ اجلاس نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ترقیاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار کی ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے دوستانہ اور مثالی تعلقات کے بعد اب نہ صرف اقتصادی راہداری میں تعاون میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے بلکہ دفاعی، سکیورٹی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون سے نئی جہتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم پاکستان اور بنگلہ دیش کے ہر گزرتے دن کیساتھ تعلقات میں ہونے والی اہم پیشرفتوں، ان کے نتیجے میں اقتصادی مواقع اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہوں کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی تاریخ ایک پیچیدہ اور نسبتا متنازعہ ماضی پر مبنی ہے۔ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناو اور اتار چڑھاو رہا، اس دور کی تلخ یادیں دونوں ممالک کی سیاسی اور عوامی رائے عامہ پر ایک گہرا اثر چھوڑ گئیں۔ بنگلہ دیش کا قیام اور اس کے بعد کے حالات نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو سخت زک پہنچایا۔تاہم وقت گزرنے کیساتھ ساتھ دونوں ممالک نے اپنی سیاسی اور اقتصادی ضروریات کے پیش نظر اپنے تعلقات کو از سر نو استوار کرنے کی مثبت اور پائیدار کوششیں کیں۔ گذشتہ دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں کمی، سیاسی اختلافات اور دوسرے مسائل نے تعلقات میں اتار چڑھائو پیدا کیا، لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کی بحالی اور ترقی کیلئے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔2023 میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک نئی جہت پیدا ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، دفاعی، سکیورٹی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کی راہیں ہموار ہوئیں ۔ان پیشرفتوں کا ایک نمایاں پہلو جوائنٹ اکنامک کمیشن (JEC) کا اجلاس تھا جو کہ 20 برسوں کے طویل وقفے کے بعد ڈھاکہ میں منعقد ہوا۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جوائنٹ اکنامک کمیشن (JEC) کا اجلاس دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس اجلاس میں دو طرفہ اقتصادی، تجارتی اور ترقیاتی تعلقات کو فروغ دینے کے متعدد فیصلے اور اقدامات کیے گئے۔ اس اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر صالح الدین احمد نے کی۔اجلاس میں کئی اہم منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جن کا مقصد دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنا تھا۔ پاکستان نے اسی اجلاس میں بنگلہ دیش کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے استعمال کی پیشکش بھی کی ہے، جس سے بنگلہ دیش چین اور وسطی ایشیائی ممالک سمیت خطے کے دوسرے ممالک کیساتھ اپنی تجارت میں بڑے پیمانے پر اضافی کر سکتا ہے۔پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کیلئے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے استعمال کی پیشکش ایک اہم اقتصادی پیشرفت ہے۔ کراچی پورٹ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ ہے اور اس کا استعمال بنگلہ دیش کیلئے چین، وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کیساتھ تجارتی روابط بڑھانے کا ایک نادر اور سنہری موقع فراہم کرے گا۔ یہ تجارتی تعلقات دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان کے درمیان باہمی تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔ پاکستان نے بنگلہ دیشی طلبا کیلئے 500 مکمل فنڈڈ اسکالرشپس دینے کی پیشکش بھی کی۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے تعلیمی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور طلبا کی سطح پر تبادلے کے مواقع بڑھانے کی ایک اہم کوشش بھی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے نالج کوریڈور کے قیام کی تجویز بھی دی ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور سائنسی تحقیق میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ یہ ایک طویل المدتی اقدام ہے جس سے دونوں ممالک کی معاشی، سائنسی اور تکنیکی ترقی میں مدد ملے گی۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حلال تجارت کو مستحکم کرنے کیلئے پاکستان حلال اتھارٹی اور بنگلہ دیش اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیسٹنگ انسٹیٹیوٹ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔ اس MOU کے ذریعے دونوں ممالک حلال مصنوعات کی تجارت اور معیار کے حوالے سے ایک دوسرے کیساتھ تعاون کریں گے، جو کہ عالمی مارکیٹ میں اہمیت رکھنے والی مصنوعات ہیں۔پاکستان نے اپنے ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام کے تحت بنگلہ دیش کیلئے تربیتی سیٹوں کی تعداد05 سے بڑھا کر 25 کر دی۔ اس پروگرام کے تحت بنگلہ دیشی ماہرین کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں تربیت دی جائے گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا جبکہ پاکستان کے ماہرین کو بھی بنگلہ دیش میں تربیتی مواقع میسر آئیں گے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش نے اپنے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاک افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کیا، اس دورے کے دوران دونوں ممالک کی اعلی سطح پر عسکری قیادت میں ملاقاتیں بھی ہوئیں۔جن میں دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے دونوں ممالک نے فوجی روابط بڑھانے اور مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کے علاوہ بحریہ و فضائیہ کے سربراہان اور پرنسپل اسٹاف آفیسرز کیساتھ ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ جنرل ساحر نے پاک بنگلہ دیش دیرینہ برادرانہ تعلقات کو سراہا ، دوطرفہ تعلقات کو خودمختاری ، مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ، دفاعی اور سکیورٹی تعاون ، فوجی روابط اور مشترکہ اقدامات بڑھانے پر زور دیا ۔جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سلہٹ میں سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کا بھی دورہ کیا۔ وہ فیکلٹی ممبران اور طلبہ سے بھی ملے، بنگلادیش کی عسکری و سول قیادت نے پاک ا فواج کے پیشہ ورانہ معیار کو سراہا ، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کارناموں اور قربانیوں کی بھی تعریف کی،سناکونجو پہنچنے پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آفس اسٹاف کمیٹی کو چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا ، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے شکھا انربان پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ اس تعاون سے دونوں ممالک کی ا فواج کو دہشت گردی اور دیگر سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعاون میں دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی شامل ہے، تاکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی فضا پیدا کی جا سکے۔ دونوں ممالک نے اپنے فوجیوں کی تربیت اور مشترکہ فوجی مشقوں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی صلاحیتوں کو مزید مربوط کرنے کا عزم ظاہر کیا۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں یہ حالیہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے دور کی شروعات کی علامت ہیں۔ اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور تعلیمی سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچے گا بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور ترقی کی راہ ہموار ہوگی اور عوامی سطح پر اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں اس نئے دور کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ دونوں ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کس طرح مل کر کام کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط نہ صرف ان کی اقتصادی ترقی میں مدد فراہم کریں گے بلکہ عالمی سطح پر ان کے اثر و رسوخ کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں حالیہ پیشرفت ایک مثبت علامت ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے اقتصادی، دفاعی، سکیورٹی اور تعلیمی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود باہمی احترام اور دوستی کے رشتہ کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور اس کیساتھ ہی جنوبی ایشیا میں استحکام کی فضا بھی پیدا ہوگی۔ دونوں ممالک کو اپنے تعلقات میں اس نئی پیشرفت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی تاکہ ان کے تعلقات مزید مستحکم ہوں اور خطے میں ترقی کا عمل تیز ہو سکے۔کیونکہ حسینہ واجد کے پاکستان دشمن اقدامات کے باعث پاک بنگلہ دیش تعلقات میں جو دراڑ پڑی تھی،حالیہ اقدامات سے نہ صرف ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی ،بلکہ دونوں ممالک جن مذہبی،ثقافتی ،برادرانہ ،تاریخی اور کوکھ کے رشتوں میں بندھے ہیں،انہیں دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔پاک بنگلہ دیش بڑھتے تعلقات کسی اور کیلئے نہ سہی بھارت کیلئے یقینا شدید پریشانی کا باعث ہیں۔جو اس خطے میں فساد کی بنیادی جڑ ہے،لہذا اس جڑ کا خاتمہ اب لازمی امر ہے۔







