بھارت

امریکی سکھ تنظیموں کا آر ایس ایس سربراہ کو امریکہ میں داخلے سے روکنے کا مطالبہ

واشنگٹن: امریکہ میں قائم تین سکھ تنظیموں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہ دیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان تنظیموں نے کہاکہ آر ایس ایس بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کو فروغ دینے میں ملوث ہے۔ امریکن سکھ کاکس کمیٹی، سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی ایسٹ کوسٹ اور امریکن گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے 20 اگست کو ایک خط میں یہ مطالبہ کیا۔ یہ خط 25 اگست کو موہن بھاگوت کے متوقع دورہ امریکہ سے قبل لکھا گیا۔ تنظیموں نے 29 اگست کو میڈیسن اسکوائر گارڈن میں مجوزہ تقریب کا بھی حوالہ دیا۔سکھ تنظیموں نے کہا کہ آر ایس ایس سربراہ کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے اورانہیں عزت دینے سے ایک ایسے وقت میں انتہائی خطرناک پیغام جائے گا جب بھارت میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں اس تنظیم کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ایسی تنظیموں کے رہنماو¿ں کو سفارتی مراعات یا اعلیٰ سطح تک رسائی فراہم نہ کرے جن پر مذہبی اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔یہ پیش رفت امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی جانب سے آر ایس ایس کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف کے چیئرمین آصف محمود نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں اور ا س سے منسلک تنظیمیں عیسائیوں اور مسلمانوں سمیت مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں۔یو ایس سی آئی آر ایف نے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے اور اپنی جائزہ رپورٹس میں بھارت کو ”خصوصی تشویش کا حامل ملک“ قرار دینے کی سفارش بھی کی ہے۔آر ایس ایس کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرست تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ اسے اپنی ہندوتوا نظریے اور مذہبی اقلیتوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے طویل عرصے سے تنقید کا سامنا ہے۔امریکی سکھ تنظیموں کے اس مطالبے نے آر ایس ایس کی بین الاقوامی سرگرمیوں پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے اور اقلیتی برادریوں میں ان خدشات کو اجاگر کیا ہے جن کے مطابق بھارت سے باہر بھی ہندوتوا سیاست کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button