جعلی ڈگریوں کی بھر مار ، مختلف ملکوں نے بھارتی سٹوڈنٹ ویزا درخواستوںکی چھان بین کا عمل تیز کر دیا

اسلام آباد : بھارت کا شعبہ تعلیم مکمل طورپر دھوکہ دہی کے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ ریاست ہماچل پردیش کی مانو بھرتی یونیورسٹی (ایم بی یو) کا جعلی ڈگریوں کا ایک بڑ ا سیکنڈل سامنے آیا ہے ۔ یونیورسٹی نے 2009 سے 2020 کے درمیان 41ہزار ڈگریاںجاری کی ہیں جن میں سے 36ہزار جعلی پائی گئی ہیں اور ہر ڈگری 1 لاکھ سے 3 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یہ بڑا اسکینڈل 2020 میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کو ایک گمنام اطلاع کے ذریعے سامنے آیا۔ اس قدر بڑی بدعنوانی میں آپریٹنگ ٹرسٹ کے چیئرمین راج کمار رانا ملوث پائے گئے۔ جعلی ڈگریوںکا یہ سیکنڈل یو جی سی کی نگرانی کے نظام میں ایک بڑی خرابی کا عکاس ہے۔ ریاست کیرالہ میں بھی حال ہی میں پولیس نے 22 یونیورسٹیوں کی 1 لاکھ جعلی ڈگریاں قبضے میں لے لیں۔
اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی جو رپورٹ سامنے آئی اس میں کہا گیا کہ کیرالہ پولیس نے جعلی ڈگریاں بنانے والے گروہ کے خلاف کارروائی کی اور 11 ملزمان کو حراست میں لے لیا ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 22 یونیورسٹیوں کی 1 لاکھ جعلی ڈگریاں بھی برآمد کی ہیں۔بھارتی میڈیا رپوٹس کے مطابق اب تک تقریباً 10 لاکھ سے زائد جعلی ڈگریوں کو میڈیسن، نرسنگ اور انجینئرنگ جیسی ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاچکا ہے ۔جعلی ڈگری بنانے والا نیٹ ورک ایک سرٹیفکیٹ کو 75 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک میں فروخت کرتا تھا۔
دریںا ثنا آسٹریلیا نے بھارتی جعلی ڈگری اسکینڈلز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی اسٹوڈنٹ ویزا درخواستوںکی چھان بین اور نگرانی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ دیگر ملکوں امریکہ، سنگاپور، ملائیشیا، کینیڈا ، نیپال وغیرہ نے بھی بھارتی سٹوڈنٹ ویزا درخواستوں کے حوالے سے چوکسی کے کام میں تیزی لائی ہے
بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس 30 جون کو اتر پردیش کی آگرہ یونیورسٹی میں 8ہزار جعلی سرٹیفکیٹس کی نشاندہی کی تھی۔ مدھیہ پردیش میں چند برس قبل جعلی ڈگریوں کے معاملے میں 2ہزار سے زائد افراد کو دھر لیا گیا گیاجبکہ تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائر یکٹوریٹ نے گزشتہ برس 10جنوری تک جعلی ڈگری تحقیقات میں 5.8 کروڑ روپے کی جائیدادیں ضبط کیں۔الغرض دنیا کی نظر میںاس وقت ہندوستان”فیکستان “ میں تبدیل ہو چکا ہے۔







