لداخ میں ریاستی حیثیت کے مطالبے کے لئے کرگل سے لہہ تک پیدل مارچ کا اعلان

لہہ: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے کو ریاستی حیثیت دینے اور چھٹے شیڈول کے تحت آئینی ضمانتوں کے مطالبے کے لئے دو ہفتے طویل پیدل مارچ کی تیاری کی جا رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مارچ ستمبر 2025 میں ہو نے والے احتجاج کوایک سال مکمل ہونے کے موقع پر کیا جائے گا۔ گزشتہ سال کے احتجاج کے دوران تشدد کے نتیجے میںکئی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔سوشلسٹ پارٹی کی زیر قیادت ہونے والا یہ پیدل مارچ، جسے ’لداخ پیس اینڈ جسٹس مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے، 10 ستمبر کو ضلع کرگل سے شروع ہوگا۔ مارچ لہہ ہائی وے سے گزرتا ہوا 24 ستمبر کو لداخ کے دارالحکومت لہہ شہر میں اختتام پذیر ہوگا۔ گزشتہ سال24 ستمبر ہی کو ریاستی حیثیت اور چھٹے شیڈول کے مطالبات کے لیے ہونے والے احتجاج کی پہلی برسی ہوگی۔گزشتہ سال 24 ستمبر کو اِن مطالبات کے حق میں ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ وانگچک کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ (NSA) کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں جیل بھیجا گیا تھا، جبکہ خطے میں تشدد کے بعد تقریباً 87 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔
لہہ ایپکس باڈی (LAB) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA) جو بھارتی وزارت داخلہ کے ساتھ ان مطالبات پر بات چیت کر رہے ہیں، تمام مقدمات غیر مشروط طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ تاہم لداخ کے چیف سیکریٹری آشیش کندرا نے 25 افراد کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے عدالت میں کیس بند کرنے کی رپورٹیں پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے باقی مقدمات کا دوبارہ جائزہ لینے اور ان کے بارے میں ممکنہ اقدامات دیکھنے کو کہا جائے گا۔ لدا خ کی قیادت نے اس اقدام کے ذریعے خطے میں تقسیم پیدا کرنے کی سازش کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اب تک لداخ کی مختلف تنظیمیں نظریاتی اور مذہبی اختلافات کے باوجود اپنے مطالبات پر متحد رہی ہیں۔






