بھارت : بہار میں بھرتیوں، امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلباءکا احتجاج
طلباءکا وزیر اعلیٰ ہاﺅس کی طرف مارچ ،پولیس اورطلباءمیں جھڑپیں، متعدد گرفتار
پٹنہ :بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست بہار میں میں بھرتیوں اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباءکے خلاف پولیس نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے متعدد طلباءکو گرفتارکیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس اورطلباءکے درمیان اس وقت جھڑپیں شروع ہوئیں جب وہ پٹنہ میں وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔بہار پبلک سروس کمیشن میں ملازمت کے خواہشمندافراد اور طلباءکی ایک بڑی تعداد نے پٹنہ کے گاندھی میدان سے اپنا پہلے سے اعلان کردہ مارچ شروع کیا۔ مظاہرین ڈاک بنگلہ کراسنگ پر پہنچے جہاں پولیس نے متعدد شرکاءکو گرفتارکر لیا۔مظاہرین نے پولیس سے ہاتھا پائی کی اور رکاوٹیں توڑ دیں۔ پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا، تاہم مظاہرینپیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھتے گئے جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔شہر بھر کے اہم چوراہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جن میں بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے اہلکاربھی شامل تھے۔پٹنہ کے گارڈنی باغ علاقے میں طلباءکئی ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں، ان کے مطالبات میں بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ایک ہی امتحان کا انعقاد، بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن (BSSC) کے ذریعے بھرتی کے امتحانات میں زیادہ شفافیت اور ہندی میڈیم امیدواروں کے لیے منصفانہ مواقع کی فراہمی شامل ہیں۔ انہوں نے بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بہار پبلک سروس کمیشن کے امتحان کو منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔دریں اثناءبہار کے وزیر تعلیم متھیلیش تیواری نے کہا کہ ریاستی حکومت نے امیدواروں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو حل کیا ہے اور وہ بات چیت کے لئے تیار ہے۔تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ بہار کے تعلیمی اور بھرتی کے نظام پر کئی دیرینہ مسائل حل نہیں ہوئے ہیں۔








