بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور نفرت پر مبنی تشدد
ہندو خوانچہ فروش روی چوہان نے ایک مسلمان نبی حسین کا سرقلم کردیا
نئی دلی:
بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم برداشت، امتیازی سلوک اور نفرت پر مبنی تشدد کے واقعے تیزی سے جاری ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریاست بہار میں پارکنگ کے معمولی تنازعے پر ایک مسلم پک اپ وین ڈرائیور نبی حسین کا سرقلم کردیاگیاہے ۔ یہ افسوسناک اقعہ ضلع ارریہ میں پیش آیا ہے،نبی حسین نے اپنی گاڑی ایک ہندو خوانچہ فروش روی چوہان کے ٹھیلے کے سامنے کھڑی کی جس پر جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔پولیس نے ملزم کی شناخت روی چوہان کے طور پر کی، جو بعد ازاں جوابی ہجوم کے حملے میں ہلاک ہو گیا۔عینی شاہدین کے مطابق ہندو خوانچہ فروش نے پہلے مسلمان ڈرائیور کو چاقو مارا اور پھر اس کا سر قلم کر دیا۔وہ کٹا ہوا سر ہاتھ میں تھامے کھڑا رہااور لوگ خاموش تماشائی بنے رہے اور ویڈیوز بناتے رہے۔حملے کے بعد ملزم کچھ دیر کے لیے موقع سے فرار ہو گیا اور لاش کو سڑک کنارے ہی چھوڑ دیا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق یہ ہولناک جرم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے منظم اور نفرت انگیز تشدد کے خطرناک رجحان کا حصہ ہے۔ سرِعام سر قلم کرنے اور اس کے بعد ہونے والے ہجومی تشدد نے بھارت میں قانون کی حکمرانی کے مکمل انہدام کو نمایاں کر دیا ہے۔بھارت میں مودی حکومت کے دورمیں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں 97فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس واقعے نے فرقہ وارانہ نفرت میں اس تشویشناک اضافے کی عکاسی کی ہے جہاں بنیاد پرست جذبات کے زیر اثر معمولی تنازعات کو بھی فرقہ وارانہ مظالم میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔نفرت انگیز تقاریر سے لے کر سرِعام سر قلم کرنے تک کی یہ تبدیلی ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔یہ کھلی بربریت عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے لیے ماحول نہایت خطرناک ہو چکا ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔







