بھارت

بابری مسجد انہدام کیس کی ملزمہ رتمبھارا کو بھارت کا تیسرا اعلیٰ ترین ایوارڈ دیا گیا

نئی دہلی:بابری مسجد کے انہدام میں اہم کردار ادا کرنے والی سادھوی رتمبھارا کورواںسال سماجی کام کے زمرے میں بھارت کے تیسرے اعلیٰ ترین ایوارڈ” پدم بھوشن ”سے نوازا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کی اشتعال انگیز بیان بازی اور مختلف فرقہ وارانہ تنازعات میں ملوث ہونے کی طویل تاریخ کے پیش نظر ایوارڈ نے ایک نئے تنازعے کو جنم دیا ہے۔ رتمبھارا پہلی بار 1980کی دہائی کے آخر میں وشو اہندو پریشد کے لیے ایک اہم مقرر کے طور پر سامنے آئی جہاں رام جنم بھومی تحریک پر ان کی شعلہ بیان تقریروں نے کافی توجہ حاصل کی۔اس کی تقاریرکوجو بہت جارحانہ ہواکرتی تھی، عوامی لاڈ اسپیکرز پر چلایا جاتا تھا تاکہ ہندو قوم پرستی کو ابھاراجائے۔ ماہر سیاسیات کرسٹوف جعفریلوٹ کے مطابق ان تقاریر نے بھارت میں ہندو قوم پرست تحریک کے بیانیے کو تشکیل دینے میں اہم کردارادا کیا۔1991میں 25سال کی عمر میں رتمبھارا پر دہلی پولیس نے خاص طور پر بابری مسجد کے سلسلے میں اشتعال انگیز تقاریر کا الزام لگایا جس نے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی۔ بعد میں ان کا نام لبراہن کمیشن کی رپورٹ میں آیا جس نے 6دسمبر 1992کو مسجد کے انہدام کی تحقیقات کی تھی۔کمیشن نے انہیں ان 68افراد میں شامل کیا جو ملک کو فرقہ وارانہ انتشارمیں دھکیلنے کے ذمہ دار تھے۔ سی بی آئی نے ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی جیسی اہم شخصیات کے ساتھ ان پر بھی الزام عائد کیا تھا۔ تاہم2020میں اس کو دیگر تمام ملزمان کے ساتھ بری کردیا گیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button