
وہ گن گرج، جو چند سال پہلے کشمیر کی پہچان ہوتی تھی، اب سکوت سا چھایا ہو ا ہے۔اس وقتی خاموشی کو ناعاقبت اندیش اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ لیکن ہم انہیں بتا دینا چاہتے ہیں کشمیر پھر دھاڑے گا کیونکہ وہ شیر پھرہوشیار ہو گا۔
وہ دلوں پر راج کرتا تھا، ان کی بیتی ہوئی زندگی قلب و ذہن میں ایک طلاطم برپا کرتی ہے، وہ غلامی سے شدید نفرت کرتے تھے، جدوجہد کی علامت،انقلاب کے نقیب، ہر نوجوان کو سیماب صفت، عقابی نگاہ کا مالک اور یقین کی دولت سے مالامال دیکھنے کے عادی تھے۔
کہتے تھے!”غلامی سے بدتر ہے بے یقینی”
اسی یقین کے ساتھ وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے کہ”اک دن ضرور ہم بھارتی غلامی سے آزاد ہونگے”۔
سیّد علی گیلانی کو ہم سے بچھڑے پانچ برس(5)گزرے ہیں۔وہ عظمت کے کوہ گراں، دنیا بھر کے مظلوموں کیلئے امید کی کرن تھے۔
دلوں کو موہ لینے والا، جذبوں کو مہمیز، کمزوروں کو قوی، دل شکستوں کو پرامید بنانے والی وہ آواز، وہ سحر انگیز شخصیت، وہ مضبوط اعصاب، متانت و سنجیدگی کا سمندر آج منوں مٹی تلے محو آرام ہے۔
ان کا گھر میں نظر بندی کے دوران اپنے خالق حقیقی سے جا ملنا ان کے قد و کاٹھ میں اضافہ کر گیا۔گیلانی فقط اک نام نہیںایک استعارہ ہے، ایک تحریک ہے، ایک فکر اورسوچ اور انقلاب کا نام ہے۔زندگی کے اک پل کیلئے بھی انہوں نے بھارت کے غیر قانونی قبضے اور سامراجی عزائم کے سامنے سرنگوں نہیں کیا۔
وہ بھارتی سمراج کے باغی قرار پائے اور یہی باغی پن ان کی جرات اور عظمت کا نشان تھا۔انہوں نے جس عَلم کو تھاما، پھر اسے کبھی گرنے نہیں دیا۔وہ صحت مند تھے یا بیمار،دن کے اجالے میں تھے یا رات کے اندھیرے میں ، قید تنہائی کاٹ رہے تھے یا جلسوں اور جلوسوں کی قیادت کر رہے تھے، وہ عسرت کی حالت میں تھے یا یسر کی ، ایوانوں میں تھے یا چوک و چوراہے پر ، وہ تنہا سفر کر رہے تھے یا انجمن کی روح بنے ہوئے تھے۔انہوں نے کبھی کسی ظالم سفاک کے ساتھ مفاہمت نہ کی۔
"مفاہمت نہ سیکھا جبر ناروا سے مجھے میں طوفان ہوں لڑاوے کسی بلا سے مجھے”
سید علی گیلانی نے کشمیر کے ہر پیر و جوان کوطوفان کرکے کندن بنا دیا۔اس کی فکری اور سوچ کے دھاوے کو بھی صحیح سمت دی۔اسلام اور آزادی کے مقابلے میں ہر عزم اور غلامی کے ہر بندھن کی بیخ کنی کی۔
وہ شیر سو گیا اور جنگل میں وقتی خاموشی ہے۔سکوت کے ڈیرے ڈال دیئے۔جنگل کے سکوت کو دیکھ کر بھیڑئیے دندناتے پھر رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں، ان کی کامیابی ہے۔ لیکن ہم انہیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ وقتی اور عارضی سکوت ہے
"وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا”





