
بھارت آج اپنا یوم جمہوریہ منارہا ہے،کسی بھی ملک کو اپنے قومی دن منانے کا حق حاصل ہے اور یہ دنیا کا مروجہ اصول بھی ہے،لیکن کسی قوم کو طاقت کی بنیاد پر غلام بنائے رکھنا، مظلوموں کے سروں پر فوجی محاصرہ مسلط اور ان کا قتل عام کرکے اپنے قومی دنوں پر جشن منانا بہادری نہیں بلکہ بزدلی کی بدترین شکل ہے۔بھارت گزشتہ 79 برسوں سے اہل کشمیر کے سروں پر سوار اور ان کا بے دریغ قتل عام کررہا ہے، اپنے قومی دنوں 26 جنوری اور 15اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے چپے چپے پر فوجی محاصرے کا نفاذ عمل میں لا کر یہ دن مناتا ہے،مگر بھارت کو بار بار زچ ہونا پڑتا ہے،کیونکہ اہل کشمیر تمام تر تاریخی جبر کے باوجود بھارت کے ان قومی دنوں کو نہ صرف یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں بلکہ بھارت کیساتھ ساتھ پوری دنیا پر واضح کرتے ہیں کہ بھارت کے غاصبانہ قبضے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ سے قبل سکیورٹی کے نام پر اہل کشمیر کی زندگیاں اجیرن بنادی ہیں اورپورے مقبوضہ جموں و کشمیر کو یکم جنوری سے ہی ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔
آج کنٹرول لائن کی دونوں جانب،پاکستان اور دنیا بھر میں نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جارہا ہے ۔ بھارت ایک غاصب اور قابض ہے ،جس نے کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے برعکس مقبوضہ جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کرکے اہل کشمیر کو طاقت کی بنیاد پر غلام بنایا ہے ۔آج کا یوم سیاہ اس امر کی اہمیت کو دوبالا کرتا ہے کہ بھارت بالخصوص مودی اور اس قبیل کے دوسرے بھارتی حکمرانوں نے 05 اگست 2019 میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرکے اہل کشمیر کے تمام بنیادی حقوق سلب کیے ہیں۔بھارت اگر جمہوری مزاج کا حامل ہوتا تو پھر مقبوضہ جموں وکشمیر میں وہ جمہوری فیصلوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا لیکن جیسے کہ تحریک آزادی کشمیر کے بطل حریت سید علی گیلانی برسوں پہلے کہہ چکے ہیں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میںبھارتی جمہوریت کا جنازہ اسی دن نکل چکا ہے جب27اکتوبر 1947 میں بھارتی حکمرانوں نے دنیا کے تمام اصول وضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی افواج مقبوضہ جموں وکشمیر میں داخل کرکے بندوق کے بل پر کشمیری عوام کو غلام بنالیا۔یہ بھارت کا ناجائز اور غاصبانہ قبضہ ہی ہے جس کے خاتمے کیلئے اہل کشمیر آج تک سوا پانچ لاکھ جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں اور آج بھی قربانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔
پوری آزادی پسند قیادت بھارتی جیلوں میں قید ہے،کشمیری عوام کی زمینوں،جائیدادو املاک پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔البتہ اہل کشمیر بھارت کے فوجی گھمنڈ کے سامنے سرنگوں ہونے کیلئے کسی صورت تیار نہیں ہیں،یہی تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی اوربھارت کی ناکامی کی بڑی وجہ ہے اور بھارتی حکمران بار بار پتھروں سے سر ٹکرا کر اپنے آپ کو زخمی کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ سرینگر ، جموں اوران کے گردونواح کے علاقوں میں بھارتی فوجیوں کی اضافی تعداد یکم جنوری ہی تعینات کی گئی ہے تاکہ اہم علاقوں بالخصوص یوم جمہوریہ کی مرکزی تقاریب کے مقامات کی نگرانی کی جا سکے۔اہم داخلی مقامات پر مزید چوکیاں قائم کی گئیں اور بھارتی افواج، پولیس اور پیراملٹری اہلکاروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جدید ہتھیاروں سے لیس کیا جاچکا ہے۔نگرانی بڑھانے کیلئے عوامی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جبکہ ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔قابض بھارتی فورجیوں نے اہم مقامات پر عارضی بنکرز قائم کیے ہیں اور کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی کی نگرانی کیلئے ہر جگہ بلٹ پروف بکتربند گاڑیاں بھی گشت کررہی ہیں۔
بھارت کا نام نہاد یوم جمہوریہ ہو یا یوم آزادی، یہ ادوار کشمیری عوام کیلئے مزید پریشانیوں اور مشکلات و مصائب کے باعث ہیں۔ہرسال کی طرح آج بھی قابض بھارتی انتظامیہ نے 26جنوری سے کئی روز قبل ہی پورے مقبوضہ جموں و کشمیر میں باالعموم اور مقبوضہ وادی کشمیر میں باالخصوص سیکورٹی کے نام پر ظالمانہ اقدامات کیے ہیں۔ سرینگر سمیت وادی کشمیرکے دیگر تمام قصبوں اور دیہات میں بھارتی فوجیوں نے جگہ جگہ ناکے لگائے ہیں ،مسافر گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کو روک کر مسافروں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے ،ان کی جامہ تلاشی لی جارہی ہے اوران کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جگہ جگہ بھارتی فوجی سراغ رساں کتوں سمیت نظر آتے ہیں۔جبکہ بھارتی فوجیوں نے کئی روز قبل رات کا گشت بھی بڑھا دیا ہے۔جموں میں مولانا آزاد اسٹیڈیم کومحاصرے میں لیا جاچکا ہے،سرینگر میں بھی اسی طرح کے اقدامات کئے گئے ہیں کیونکہ نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ کی چند منٹوں کی تقریبات کے اہتمام کیلئے لاکھوں کشمیریوں کو عملا یرغمال بنایا جاتا ہے ۔سرینگر اور جموں میں جنگی ماحول برپا کیا جاچکا ہے،لوگوں کے گھروں پر قبضہ کرکے چھتوں پر بینکر قائم کیے گئے،یہ مشق 1990 جاری ہے.
گوکہ بھارت کی دوسری ریاستوں میں آج حالات کچھ مختلف ضرورہیں ،البتہ بھارت کی شمال مشرقی شورش زدہ ریاستوں میں بھی نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منایا جارہا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر کو ہی فوجی چھاونی میں تبدیل اور اہل کشمیر کو یرغمال بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے،یہ بہت بڑا سوال ہے جس پر بھارت کیساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی غور و خوض کرنا چاہیے۔اہل کشمیر کی طرف سے بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانا اس بات کا مظہر ہے کہ اہل کشمیر بھارت کے اس ناجائز اور غاصبانہ قبضے کو کسی صورت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔آج پورے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے،جس کے باعث تمام کاروباری مراکز،بازار اور دکانیں بند جبکہ ٹرانسپورٹ معطل ہے،یہاں کی سڑکیں سنساں اور ہر طرف بھارتی فوجی اور ان کی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔
یوم سیاہ منانے سے بھارت کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ اہل کشمیر نہ پہلے تمہاری توپ و تفنگ سے مرعوب ہوئے ،نہ آج ہورہے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔ بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیری عوام کا یوم سیاہ اور احتجاج بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہے۔اہل کشمیرکا یہ احتجاج اس امر کا بھی اظہار ہے کہ جب تک بھارت کشمیری عوام کے مسلمہ حق خودارادیت کو واگزارنہیں کرتا جس کا بھارت نے 5جنوری 1949 میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر عالمی برادری کو گواہ ٹھہراکر کشمیری عوام کیساتھ وعدہ کررکھا ہے،کشمیری عوام بھارت کے غاصبانہ اور ناجائز قبضے کے خاتمے کیلئے اپنی جدوجہد جاری اور بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کو یوم سیاہ کے بطور مناتے رہیں گے۔
جنوری کے اسی مہینے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں اجتماعی قتل عام کے متعدد واقعات دہرائے گئے ،جو بھارت کی نام نہاد جمہوریت پر ایسے سیاہ دھبے ہیں جنہیں کسی صورت دھویا نہیں جاسکتا ۔مقبوضہ جموںو کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری نسل کشی اور ماورائے عدالت قتل عام عالمی برادری کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے ۔ہر نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ پر کشمیری عوام کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔زور زبردستی بھارت کا ترنگا لہرانے سے کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو نہ پہلے دبایا جاسکا اور نہ آئندہ دبایا جاسکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی حقیقت ہے ، اگر بھارت یہ سوچتا ہے کہ فوجی طاقت کا استعمال کرکے کشمیری عوام کی مزاحمتی تحریک کو دبایا جائے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔بھارت کے تمام جابرانہ ہتھکنڈے اہل کشمیر کے موقف کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں لہذا یہ تنازعہ کشمیر کے تمام فریقین کے بہتر مفاد میں ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کا انعقاد عمل میں لاکر کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
آب تو عالمی ذرائع ابلاغ بھی اس بات کا اعتراف کررہا ہے کہ بھارت جمہوری ملک کے بجائے بتدریج ایک آمریت میں تبدیل ہورہا ہے اور سیکولر ازم بھی لرزہ براندام ہے۔کیونکہ مودی اور اس کی بی جے پی بھارت میں ہندتوا کو فروغ دے ر ہے ہیں۔ مسلمان بھارت کی مجموعی آبادی کا چوبیس کروڑ ہو سکتے ہیں لیکن مودی کے بھارت میں مسلمانوں کو انتہائی حقیر سمجھا جارہا ہے جن کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔
بھارتی حکومت کے ایوانوں میں مسلمانوں کیلئے موثر آواز بلند کرنے والا آج کوئی نہیں ہے۔ 1947میں تقسیم کے بعد پہلی بار حکمران جماعت بی جے پی کی کابینہ میں کوئی مسلم وزیر یا اسکا کوئی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں ہے ۔کیا اب بھی عالمی برادری بھارتی فسطائیت پر خاموش تماشائی بنی رہے گی۔




