مضامین

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحقیق ، تاریخ اور علمی آزادی پر پہرے

محمد شہباز

معروف اور مشہور قول ہے کہ علم کسی کی میراث نہیں ۔ جس نے بھی اس میراث کو گلے لگایا وہی آگے بڑھا اور دنیا میں اس وقت اگر ٹیکنالوجی کا ڈنکا بجتا ہے تو اس کے پیچھے بھی علمی راز سربستہ ہے۔اس کائنات کے علمی خزانوں کو دریافت کرنے میں مسلمانوں کا بڑا کردار ہے ، جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔برصغیر کی تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں ، تو مسلمانوں کے اکابرین سرفہرست ہیں ۔ وہ ہر شعبہ زندگی میں اپنی میراث چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ جس کا اعتراف پرایے بھی کرتے ہیں۔ بھارت جس پر ہندو راجاﺅں ،مسلم سلاطین اور برطانوی سلطنت نے طویل عرصے تک حکمرانی کی ہے ۔بھارت کا یہ المیہ ہے کہ اس کی زیادہ تر تاریخ یا تو زبانی اور دیومالائی روایتوں پر مشتمل ہے یا پھر بیرونی سیاحوں کی مرہون منت ہے۔ البتہ 2014میں بھارت کیساتھ ایک اور المیہ وقع پذیر ہوا جب ایک جاہل ، گنوار اور ا ٓن پڑھ شخص بھارت کے اقتدار پر براجمان ہوا ۔ وہ دن اور آج کا دن ۔ مودی اور اس کی بی جے پی حکومت بھارت سے لیکر مقبوضہ جموں وکشمیر تک مسلمانوں کی مادر علمی پر جس طرز پر حملہ آور ہیں ،مستقبل قریب اس کی ہولناکی کی منظر کشی کرتا ہے۔یہاں چند ایک واقعات کا برسبیل تذکرہ کرتے ہیں تاکہ اندازہ ہوسکے کہ مودی کے بھارت میں مسلمانوں کی تاریخ مٹانے کی حکومتی سرپرستی میں کوششیں کسقدر عروج پر ہیں۔

اتر پردیش اور آسام جیسی ریاستوں میں بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کیا ہے اور متعدد مدارس کو غیر قانونی قرار دے کر ان کی سرکاری امداد بند کر دی گئی ہے۔این سی ای آر ٹی (NCERT) کی نصابی کتب میں تبدیلیاں کی گئیں۔ بھارتی تعلیمی بورڈز کی نصابی کتب سے مغل تاریخ، مسلم حکمرانوں کے کردار اور اقلیتوں سے متعلق تاریخی ابواب کو بڑی حد تک حذف یا تبدیل کر دیا گیا ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) اور جامعہ ملیہ اسلامیہ (JMI) کے اقلیتی کردار کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے اور ان کے انتظامی ڈھانچے میںمودی حکومت کا عمل دخل بڑھا دیا گیا ہے۔ اقلیتی طلباءکےلئے جاری کئی مرکزی اسکالرشپ اسکیموں (جیسے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ) کو بند یا محدود کر دیا گیا ہے، جس سے مسلم طلباءکی اعلیٰ تعلیم تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان کی قائم کردہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے چالیس میں سے 38 بلاکس کو گرانے کی تیاری مکمل ہے۔خود اعظم خان ،ان کی اہلیہ اور بیٹا کئی برسوں سے جیل میں جرم بے گناہی کی پاداش میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ مسلم طلبا کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر انہیں برسوں جیلوں میں سڑایا جاتا ہے اور پھر بھارت کا نظام انصاف جنبش تک محسوس نہیں کرتا
۔
اب مقبوضہ جموں و کشمیرمیں اہل کشمیر کی تاریخ مٹانے کی تیاری زوروں پر ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے صرف لوگوں پر ہی نہیں بلکہ اب کتابوں، تحقیق اور تاریخ پر بھی شکنجہ مزید سخت کسا جارہا ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق قابض بھارتی حکام نے اسکولوں، کالجوں، جامعات اور عوامی کتب خانوں میں موجود کتابوں، تحقیقی مقالوں، جرائد اور ڈیجیٹل مواد کے بڑے پیمانے پر آڈٹ کا حکم دیا ہے۔ تا کہ ایسے مواد کی نشاندہی کی جائے جو آزادی پسندی، یا مسئلہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے سرکاری موقف سے مختلف نقط نظر پیش کرتا ہو۔ تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ اس کارروائی کا اصل مقصد کشمیری عوام کی تاریخ، شناخت اور اجتماعی یادداشت کو مٹانا ہے۔اس مہم کا آغاز اس وقت ہوا جب بی جے پی رہنماوں نے بعض کتابوں پر اعتراضات اٹھائے، جن میں کشمیری سیاسی شخصیات اور آزادی پسند رہنماوں کا ذکر موجود تھا۔ اس کے بعد نہ صرف کتابوں کی جانچ شروع ہوئی بلکہ ناشرین پر چھاپے مارے گئے، گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور تحقیقات کا دائرہ جامعات اور ڈیجیٹل لائبریریوں تک بڑھا دیا گیا۔ الجزیرہ کا کہنا کہ 9 جولائی کو جاری کیے گئے ایک حکومتی حکم نامے میں تمام تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کتابوں، جرائد، تحقیقی مقالات، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات، نیز ڈیجیٹل مواد کا جائزہ لیں۔

یہ نئی کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب بی جے پی رہنما سنیل شرما نے ہلال احمد اور سنتوش مینا کی کتاب Personalities & Legends of J&K پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔قابض حکام نے کتاب میں کشمیری آزادی پسند شخصیات، جن میں سید علی گیلانی ، محمد مقبول بٹ اورمسرت عالم بٹ شامل ہیں، سے متعلق اسباق پر اعتراض کیا۔ کتاب میں محمدمقبول بٹ کو "شہید” قرار دیا گیا تھا، جنہیں 1984 میں تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی اور پھر وہیں جیل کے احاطے میں ہی دفن کیا گیا، جبکہ سید علی گیلانی کا یہ موقف بھی نقل کیا گیا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر "ایک متنازع خطہ ہے جس کے سیاسی حل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری میں ہونا چاہیے۔جبکہ مسرت عالمی بٹ مقبوضہ جموں وکشمیر میں پاکستان کی توانا آواز ہیں ،جس کی پاداش میں وہ کئی برسوں سے بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر نے اسکولوں، کالجوں اور عوامی کتب خانوں میں موجود کتابوں کا وسیع پیمانے پر آڈٹ شروع کر دیا ہے تاکہ ایسا مواد ان اداروں سے ہٹایا جا سکے جو مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے دعوے پر سوال اٹھاتا ہو۔اس صورتحال نے اہلِ علم، طلبہ، محققین اور کتب فروشوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ کشمیری صحافیوں اور کتاب فروشوں کا کہنا ہے کہ اب یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ کون سی کتاب یا تحقیق قابلِ قبول سمجھی جائے گی اور کون سی ممنوع قرار پائے گی۔ ایسے ماحول میں علمی آزادی اور تحقیق کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

وہیں بین الاقوامی ماہرین اور مصنفین نے بھی مودی حکومت کے اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔ معروف مصنفہ اور اخبار کشمیر ٹائمز کی چیف ایگزیکٹو انورادھا بھسین نے کہا کہ "کتابیں بم نہیں ہوتیں” اور علم کو جرم نہیں بنایا جا سکتا۔ سیاسیات کے ماہر سمنترا بوس نے اس اقدام کو "مضحکہ خیز” قرار دیا، جبکہ کشمیری ماہرِ بشریات محمد جنید نے اسے "میموری سائیڈ”(Memoricide) یعنی یادداشت کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ماضی کے حقائق اور عوام کی تاریخی شناخت کو بدلنے کی دانستہ کوشش ہے۔یاد رہے کہ 05 اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں مسلسل ان خدشات کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ مقبوضہ علاقے میں آزادی اظہارِ رائے، ذرائع ابلاغ، تعلیمی آزادی اور تحقیق پر پابندیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ کتابوں کے آڈٹ کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک اور کتاب Personalities of Jammu & Kashmir Great از سشانت گیری بھی لائبریریوں میں تقسیم کی گئی تھی۔ سنیل شرما نے ایسی کتابوں کی موجودگی کو "اکیڈمک جہاد” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو "زہر آلود” کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس کے بعد بھارتی پولیس نے ناشرین کے دفاتر پر چھاپے مارے اور تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ ان پر بھارت کی "خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے” کے الزامات عائد کیے گئے۔اس کتب آڈٹ نے کشمیری عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایک سینئر کشمیری صحافی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الجزیرہ کو بتایا کہ "خطے کی تاریخ کے بارے میں لکھنا یا حتیٰ کہ اسے پڑھنا بھی اب خطرے سے خالی نہیں رہا۔” سرینگر کے ایک کتاب فروش نے کہا کہ دکاندار اس الجھن میں مبتلا ہیں کہ "کون سی کتاب بھارت دشمن سمجھی جائے گی اور کون سی قومی مفاد کے مطابق۔”گزشتہ برس بھی بھارتی حکام نے 25 کتابوں پر پابندی عائد کی تھی، جن میں اے جی نورانی، سمنترا بوس اور اروندھتی رائے کی تصانیف شامل تھیں، جبکہ کتابوں کی دکانوں پر چھاپے مار کر یہ کتابیں ضبط کی گئی تھیں۔اسی طرح جماعت اسلامی کے بانی اور عظیم مفکر سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تصنیف کردہ 668 کتابیں بھی مقبوضہ جموں وکشمیر میں پابندی کی زد میں لاکر انہیں قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

یہ مودی کی بی جے پی ہے جس کے اعتراض پر جموں کے ضلع ریاسی میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی نارائنا میڈیکل کالج کی بندش عمل میں لائی گئی کیونکہ بھارت کے نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے بنیادی طبی سہولیات کے فقدان کو جواز بنا کر کالج کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا۔حالانکہ میڈیکل کالج کی اس بندش کے اصل محرکات مذہبی تنازع ہیں، کیونکہ کالج کے پہلے سال کے بیچ میں 24مسلمان طلباءنے میرٹ کی بنیاد پر داخلہ لیا تھا۔ اس پر ہندو تنظیموں کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا، اور نوبت میڈیکل کالج کی بندش تک پہنچ گئی۔ہندوتوا ذہنیت نے میڈیکل کالج کی بندش پر مٹھائیاں تک بانٹیں اور اس اقدام کو بڑا کارنامہ گردانا ۔اس پراگندہ ذہنیت پر ترس آتا ہے،جس کی آبیاری مودی جیسے بھگت کررہے ہیں۔ البتہ ان بھگتوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تاریخ یہ سوال لیے ان کے سامنے کھڑی ہے کہ کیا تاریخ کو کتابوں سے نکال دینے سے تاریخ بدل جاتی ہے؟ کیا لائبریریوں سے کتابیں ہٹا دینے سے حقیقت ختم ہو جاتی ہے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ خیالات کو پابندیوں سے دبایا جا سکتا ہے، مگر علم، تاریخ اور اجتماعی یادداشت کو مکمل طور پر مٹانا ممکن نہیں۔جس کا ادراک مودی جیسے ایک ان پڑھ، جاہل اور گنوار کو نہیں ہوسکتا۔جس کے خلاف اس وقت پورے بھارت باالعموم اور دہلی کے جنتر منتر پر بالخصوص ہزاروں طلبا و طالبات20جون سے دھرنا اور احتجاج کررہے ہیں۔ بھارتی طلبا کھل کر اب ان خیالات کا اظہار کررہے ہیں کہ ملک کو ایک پڑھے لکھے اور دور اندیش شخص کی ضرورت ہے جو ہندوتوا کے بجائے تعلیم دوست اور طلبا کا دکھ درد محسوس کرنے والا ہو، نیٹ جیسے پیپر لیک میں ملوث اپنے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہر حال میں بچانے کیلئے لاکھوں طلبا کے مستقبل کو داو پر لگانے اور درجنوں طلبا کی خود کشی پر احساس ندامت تک نہیں ہے۔مودی لاکھ کوششیں کریں، تاریخ نہ پہلے مٹائی جاچکی اور نہ ہی آئندہ مٹائی جاسکتی ہے۔ مودی فنا کے گھاٹ اترنے کے قریب ہیں پھر نہ اس کا نام رہے گا اور نہ ہی ہندوتوا کا نظریہ ۔ خیالات کو قید نہیں کیا جاسکتا۔یہی تاریخ کا سب سے بڑا سچ ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button