بھارت :پنجاب میں سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک میں شدت

چندی گڑھ :بھارتی ریاست پنجاب میں سرکاری ملازمین نے سانجھا ملازم منچ کمیٹی کے پلیٹ فارم تلے اپنی احتجاجی تحریک تیز کرنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حالیہ ریاست گیر ہڑتال کے حوالے سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس واپس نہ لیے گئے تو 8 ستمبر کو ملازمین اجتماعی رخصت پر جائیں گے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق یہ فیصلہ لدھیانہ میں ا حتجاج کرنے والی ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے بعد کیا گیا۔انہوں نے عام آدمی پارٹی کی زیر قیادت پنجاب حکومت کو 7 ستمبر تک کی مہلت دی ہے کہ وہ ان ملازمین کو جاری کیے گئے نوٹس واپس لے جن سے 27 اگست کی ریاست گیر ہڑتال کے دوران غیر حاضری پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ حکومت نے انتظامی سیکریٹریوں اور محکموں کے سربراہان کو ہدایت کی تھی کہ ان ملازمین کو نوٹس جاری کیے جائیں جوغیر حاضر رہے اور قواعد کے مطابق ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائے۔ملازمین کی یونینوں نے وزراءکی رہائش گاہوں کے گھیراو¿ اور نئے احتجاجی مظاہروں کی بھی دھمکی دی ہے۔ ان کے مطالبات میں نوٹسز کی واپسی اور زیرِ التوا 18 فیصد مہنگائی الاو¿نس کی فوری ادائیگی شامل ہے۔تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین نے 27 اگست کے احتجاج میں شرکت کی تھی تاکہ اپنے طویل عرصے سے زیرِ التوا مطالبات منوائے جا سکیں جس کے نتیجے میں ریاست بھر میں کا م کاج متاثر ہوا۔ پنجاب سانجھا ملازم منچ کے تحت 150 سے زائد ملازمین کی تنظیمیں ہڑتال میں شامل ہوئیں جبکہ 3.5 لاکھ سے زائد پنشنرز نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔




