APHC-AJK

سید علی گیلانی آخری سانس تک اپنے نظریے پر ڈٹے رہے: فاروق رحمانی

اسلام آباد : کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیرشاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کشمیر کے عظیم رہنما سید علی گیلانی کو ان کی پانچویں برسی پر شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ آخری سانس تک آزادی اور حقِ خودارادیت کے اپنے نظریے پر ڈٹے رہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فاروق رحمانی نے ایک بیان میں کہا کہ سید علی گیلانی کو 2010 میں گھر میں نظر بند کر کے غیر قانونی طورپر حراست میں رکھا گیا، جبکہ زندگی کے آخری سالوں میں انہیں تازہ ہوا اور اپنی سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ حراست میں ایک بیمار رہنما کی حیثیت سے ان کی زندگی کی آخری دہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کشمیری عوام بالخصوص جموں و کشمیر کے مقبول سیاسی رہنماو¿ں کے ساتھ کس قدر نفرت اور تعصب پر مبنی سلوک روا رکھتا ہے جبکہ وہ خود کو کشمیریوں کا نجات دہندہ قرار دیتا ہے۔محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ سید علی گیلانی حراست کی بیڑیوں میں دنیا سے رخصت ہوئے لیکن اپنی آخری سانس تک آزادی اور حقِ خودارادیت کے اپنے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تنازعہ جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت کا محدود اور تنگ نظر رویہ مزید بے نقاب ہوا۔انہوں نے کہا کہ سید گیلانی نے نہ صرف ایک پ±رامن سیاسی جدوجہد کی بلکہ کشمیر سے فلسطین تک انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف بھی اپنی آواز بلند کی۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے اصولوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں اور کشمیر کے مظلوم عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کریں۔انہوں نے مسلم دنیا کے ساتھ ساتھ افریقی، لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپی کے ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ دنیا کے مظلوم اور ظلم و بربریت کا شکار عوام اور اقوام کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button