بھارت

بھارت، امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا

حکومت جواب دہی سے بچنے کے لیے پولیس کا استعمال کررہی ہے، راہول گاندھی

نئی دلی: بھارت میں تعلیمی بدانتظامی، بھرتیوں میں بے ضابطگیوں اور امتحانات میں شفافیت کے فقدان کے خلاف طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریاست بہار میں سول سروسز کے امیدوار اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق طلبہ طویل عرصے سے بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، امتحانات میں تاخیر اور پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امتحانی عمل کو شفاف بنایا جائے اور نوجوانوں کو میرٹ پر مواقع فراہم کیے جائیں۔دکن ہیرالڈ نے احتجاج سے متعلق اپنے تجزیے میں پولیس کارروائی کو بی جے پی حکومت کے طرز حکمرانی اور رویے پر سوال قرار دیا ہے۔
دوسری جانب احتجاجی طلبہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج، واٹر کینن اور گرفتاریوں کا سہارا لیا۔ شہریوں کی جانب سے بھی پولیس کے مبینہ تشدد اور گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔احتجاجی رہنما امان کمار کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کی بدحالی اور پیپر لیکس اسکینڈلز کے خلاف نوجوانوں کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وزیر تعلیم مستعفی نہیں ہوتے۔
ادھرمودی حکومت پر الزام ہے کہ وہ طلبہ کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے احتجاج کو لاٹھی چارج، واٹر کینن اور زبردستی گرفتاریوں کے ذریعے کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔پوزیشن رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ مودی حکومت جواب دہی سے بچنے کے لیے پولیس کو ہتھیار بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض پولیس کارروائی نہیں بلکہ بی جے پی حکومت کے طرزِ حکمرانی اور ذہنیت پر ایک سنگین سوال ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button