مودی حکومت نے ”یو پی آئی“ پر ٹیکس کا نفاذ کر کے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، حزب اختلاف
نئی دلی: حزب اختلاف نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے ” یو پی آئی “ کے لیے ایم ڈی آر فریم ورک متعارف کر ا کے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکرٹری و انچارچ شعبہ مواصلات جئے رام رمیش نے ”ایکس “ پر کہا کہ صاف لگ رہا ہے کہ مرچنٹ دسکاﺅنٹ ریٹ ( ایم ڈی آر) کا اعلان امریکی کارڈ کمپنیوں کو یو پی آئی سے مسابقت کرنے کا اہل بنانے کے لیے کیا گیا ہے ۔
جئے رام رمیش نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے بھارتی امیگرنیٹس پر سخت کارروائی شروع کر دی ہے اور انکے خلاف سخت قوانین لا رہی ہے ، ایچ ون بی ویزا پر چارجز میں اضافہ کیا جا چکا ہے اور اس ویزا کے حاملین کو ملازمت ختم ہوئے ہی فورا جلا وطن کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ مودی حکومت نے یو پی آئی کے لیے زیرو ایم ڈی آر ہٹا کر چارج عائد کرنے کا امریکہ کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔
ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ سوگتا رائے نے بھی کہا کہ یو پی آئی معاملات پر فیس نافذ کرنے کے معاملے کی کانگریس کی طرف سے جو مخالفت کی گئی ہے وہ بالکل جائز ہے ، کیونکہ اس سے کئی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔ آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے بھی اس مسئلے پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ فیصلہ اپنے طور پر اور اپنی سوچ کے انداز سے کیا ہے اور یہ امریکی سامراج کے آگے سرنگوں ہونے کے متراف ہے ۔








