بھارت

نریندر مودی کے ماضی میں سوویندو ادھیکاری پرکرپشن کے الزامات کی ویڈیووائرل

صارفین کی بدعنوان لیڈر کی مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ کے طورپرتقرری پر نریند رمودی پر کڑی تنقید

نئی دلی: بھارتی ریاست مغربی بنگال میں حالیہ متنازعہ انتخابات میں ہندوتوا بھارتیہ جنتاپارٹی کی کامیابی اوروزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے سوویندو ادھیکاری کی وزیراعلیٰ کے طورپر تقرری پر ملک بھارت میں کڑی تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سوشل میڈیا پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ایک پرانی ویڈیو وائرل ہے جس میں انہیں اس وقت کے ترنمول کانگریس کے رہنما سوویندو ادھیکاری کو مبینہ رشوت اسکینڈل پر تنقید کا نشانہ بناتے دکھایاگیاہے ۔یہ وائرل ویڈیو 2016کی ہے، جس میں نریندر مودی سوویندو ادھیکاری کو مبینہ رشوت اسکینڈل پر طنز کررہے ہیں ۔ سوشل میڈیا صارفین اب اس ویڈیو کو 2026 میں سوویندوادھیکاری کی مغربی بنگال کے پہلے بی جے پی کے وزیراعلی کے طور پر تقرری سے جوڑتے ہوئے مودی حکومت پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔صارفین کے مطابق نریندر مودی نے عالمی جمہوری تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی ہے کہ ایک ایسے شخص کو وزیراعلی بنایا گیاہے جوکیمرے پر رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ بی جے پی کی وہ پرانی ویڈیو جس میں ادھیکاری پر رشوت الزامات کو نمایاں کیا گیا تھا، مبینہ طور پر سرکاری پلیٹ فارمز سے ہٹا دی گئی ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ 10 سال پہلے جس سوویندو ادھیکاری کو نریندر مودی نے رشوت لینے کی ویڈیو پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا، آج اسی کی حلف برداری کی تقریب میں بطور مہمان شریک ہوئے ہیں۔ ادھیکاری کو 2020 میں ٹی ایم سی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے تک کرپشن الزامات کا سامنا رہا، جس کے بعد ان کے گرد بیانیہ یکسر تبدیل ہو گیا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ جس شخصیت کو ماضی میں بی جے پی رہنما خود تنقید کا نشانہ بناتے تھے، آج اسی کی حلف برداری تقریب میں وزیرِاعظم مودی کی شرکت سیاسی تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین بی جے پی کو ایک سیاسی واشنگ مشین قرار دے رہے ہیں جہاں پارٹی میں شمولیت کے بعد کرپشن الزامات غائب ہو جاتے ہیں۔ بھارتی سیاست میں بی جے پی کی واشنگ مشین شاید وائی فائی سے بھی زیادہ تیزی سے کام کرتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ بھارتی سیاست میں احتساب، سیاسی مفادات اور پارٹی وابستگیوں کے بدلتے معیار پر نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button