مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی جاری
ادھمپورکے علاقے مجالٹامیں 2کشمیری نوجوان جعلی مقابلے میں شہید
جموں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز اہلکاروں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع ادھم پور میں2 نوجوانوں کو شہید کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے مجالٹا میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران جعلی مقابلے میں شہید کیا۔بھارتی فورسز نے ضلع ادھمپور کے علاقوں مجالٹا، خوبند، سوہن اور بسنت گڑھ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی منگل کے روز شروع کی تھی۔ بھارتی حکام نے دعوی کیاہے یہ دونوں نوجوان غیر ملکی عسکریت پسند تھے جو ایک جھڑپ میں مارے گئے۔
مقامی لوگوںنے بھارتی حکام کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں نوجوان بے قصور تھے اور انہیں جعلی مقابلے میں غیر ملکی عسکریت پسند قراردیکر شہید کیاگیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ قابض فورسز کا پرانا وطیرہ ہے کہ نوجوانوں کو تلاشی کی کارروائی کے دوران گھروں سے گرفتار کر نے کے بعد ازاں جعلی مقابلوں میں عسکریت پسند قراردیکر قتل کردیاجاتاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 18جولائی 2020کو بھارتی فوج نے ضلع شوپیاں کے علاقے امشی پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تین نوجوانوں کوعسکریت پسند قراردیکر شہید کیاتھا۔تاہم کچھ دن بعد بھارتی فوج کی طر ف سے جاری کی گئی تصاویر کے ذریعے لواحقین نے ان نوجوانوںکو شناخت کر لیا جومقامی تھے ۔ راجوری کے رہائشی نوجوان امتیاز احمد، ابرار احمد اور محمد ابرارروزگار کی تلاش کیلئے وادی کشمیر سے شوپیاں گئے تھے،جنہیں بھارتی فوج نے گرفتار کرنے کے بعد غیر ملکی عسکریت پسند قراردیکر جعلی مقابلے میں شہید کردیاتھا۔بعدازاں بھارتی فوج نے اس حقیقت کا اعتراف کیاتھاکہ تینوں نوجوان مقامی نوجوان تھے ۔
کے ایم ایس کے مطابق بھارتی فوج کو مقبوضہ علاقے میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ جیسے کالے قوانین تحت کشمیریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ اس سے قبل 22 فروری کو بھی ضلع کشتواڑ میں 3 کشمیری نوجوانوں کو دورانِ حراست جعلی مقابلے میں شہید کر دیا گیا تھا۔فوجیوں نے تینوں نوجوانوں کوایک کارروائی کے دوران گرفتار کرنے کے بعد ماورائے عدالت قتل کیاتھا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کیلئے 10 لاکھ فوجی تعینات کررکھے ہیں۔جموں وکشمیر دنیا کاواحد علاقہ ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں قابض فوج تعینات ہیں۔ جنوری 1989سے اب تک بھارتی فوجی مقبوضہ علاقے میں 96ہزار 502سے زائد کشمیریوں کو شہید کیاہے ۔اس عرصے کے دوران 7ہزار421 کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کیاگیا،کے۔ اگست 2019کے بعد سے، مقبوضہ کشمیر میں ایک ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید اور38ہزار کو گرفتار کیا گیاہے۔ کے ایم ایس کے مطابق صرف گزشتہ ماہ اگست میں، بھارتی فوج نے جاری کریک ڈان آپریشنز کے دوران 47کشمیریوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا۔ دنیا سے اپنی ریاستی دہشتگردی کو چھپانے کیلئے، بھارتی حکام مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ کی بندش سمیت سخت مواصلاتی لاک ڈائون نافذ کر دیتے ہیں۔
مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوںاورجعلی مقابلوں کے دوران ہونے والی ایسی ہلاکتوں پر اکثرسوالات اٹھائے جاتے ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے اس طرح کے واقعات کی آزادانہ او ر شفاف تحقیقات کے مطابات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔KMS-Y








