جموں : عدالت نے جھوٹے مقدمے میں قید 3کشمیریوں کی درخواست ضمانت مسترد کر دی
جموں:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی تحقیقاتی ادارے ”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی “(این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے 2022 کے ایک جھوٹے مقدمے میں قید تین کشمیریوں کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔
شفیق احمد شیخ، بلال احمد وگے اور محمد اسحاق چوپان کی درخواست ضمانت کو این آئی اے مقدمات کے خصوصی جج پریم ساگر نے مسترد کر دیا۔
یہ مقدمہ اپریل 2022 میں جموں کے علاقے سنجوان علاقے میں ہونے والے ایک حملے سے متعلق ہے۔ حملے میں ان تینوں کو ملوث کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروںکے وکیل ایڈووکیٹ آئی ایچ بھٹ نے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ ملزمان تین سال سے زائد عرصے سے قید ہیں ۔ انہوں نے مقدمے کے میرٹ اور ٹرائل مکمل ہونے میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کی استدعا کی۔ استغاثہ نے درخواست ضمانت کی سخت مخالفت کی۔
عدالت نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت مسترد کر دی۔
کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنااور برسہا برس تک جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالناکشمیریوں کے خلاف بھارتی ریاستی دہشت کا ایک حصہ ہے۔ اس وقت ہزاروں کشمیری” پبلک سیفٹی ایکٹ ، یو اے پی اے “ جیسے کالے قوانین کے تحت جیلوں اور عقوبت خانوں میں بندہیں۔








