مقبوضہ جموں وکشمیر:” این ایچ ایم “ کے ہزاروں ملازمین کی ہڑتال بدستور جاری
صحت کی خدمات شدید متاثر،دیہی ، دور دراز علاقوں میں مریضوںکا کوئی پرساں حال نہیں
سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل ہیلتھ مشن( این ایچ ایم) سے وابستہ ملازمین کے ہزاروں ملازمین کی اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال اور احتجاج بدستور جاری ہے جسے نتیجے میں صحت کی خدمات شدید متاثر ہیں۔
” این ایچ ایم“ ملازمین نے اپنی ہڑتال اور احتجاج میں گزشتہ روز مزید72گھنٹے کی توسیع کر دی ۔ ملازمین تنخواہوں میں اضافہ، مستقلی ، سماجی تحفظ اور دیگر مطالبات کر رہے ۔ انہوںنے اپنی ہڑتال کا آغاز 9ستمبر کو کیا تھا ۔ ہڑتال نے خاص طور پر دیہی اوردور دراز علاقوں میں صحت کی خدمات کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں صحت کے کئی مراکز کا انحصار بڑی حد تک این ایچ ایم ملازمین پر ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صحت کے کچھ مراکز بند پڑے ہیں جبکہ طبی خدمات میں شدید خلل پڑا ہے۔
وادی کشمیر کے شمالی ضلع کپواڑہ میں 1ہزار سے زاہد نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین تعینات ہیں جو مقبوضہ جموں و کشمیر بھر کے دیگر این ایچ ایم ملازمین کے ساتھ ہڑتال پر ہیں۔
کپواڑہ کے مختلف طبی زونز میں کام کرنے والے کل 1,270 این ایچ ایم ملازمین میں سے 365 ڈاکٹرز ہیں، 840 پیرا میڈیکل اور دیگر عملے کے ارکان ہیں جبکہ 65 ملازمین انتظامی امور سنبھال رہے ہیں۔
ضلع کے علاقے لولاب کے ایک رہائشی محمد عباس نے کہاکہ دیہات اور کنٹرول لائن کے قریب واقع علاقوں کے لوگ بنیادی علاج، ادویات اور دیگر خدمات کے لیے صحت کے ان مراکز پر انحصار کرتے ہیں لیکن ہڑتال کی وجہ سے اب مریضوں کا کوئی پرساں حال نہیں ہے۔
ضلع کے علاقے لال پورہ کے ایک اور رہائشی ناصر احمر بتا کہ باقاعدہ طبی دیکھ بھال کے محتاج مریضوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ غریب خاندانوں اور معمر مریضوں کے لیے ضلعی ہسپتالوں کے بار بار چکر لگانا مشکل ہو رہا ہے۔ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جانا چاہیے تاکہ مریضوں کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
مذکورہ ہڑتال کی وجہ سے فعال طبی اداروں میں موجود عملے پر کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ قابض بھارتی انتظامیہ معاملہ کو حل کرنے کے بجائے ٹال مٹول کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔







